خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 516

516 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم تک اس کی حفاظت فرمائی اور اس کو اپنی اصلی حالت میں رکھا۔اللہ تعالیٰ تو ایک مومن سے ایمان لانے کے بعد عمل صالح کرنے کی توقع رکھتا ہے اور اسے عمل صالح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ایک مسلمان پر کچھ ذمہ داریاں عائد فرماتا ہے۔اس آیت کے اس حصہ میں خدا تعالیٰ نے انہی ذمہ داریوں کا ذکر فرمایا ہے اور فرمایا کہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی وجہ سے تم خیر امت ہو۔بغیر دلیل کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خیر امت کے خطاب سے نہیں نوازا۔بلکہ وجہ اور دلیل بیان کی ہے کہ ان وجوہات سے تم خیر امت ہو۔یہ چیزیں تمہارے اندر ہوں گی تو تم خیر امت کہلاؤ گے۔ایک یہ کہ تم أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہو، تمہیں لوگوں کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔تمہیں کسی خاص قوم یا لوگوں کی بھلائی کے لئے نہیں پیدا کیا گیا بلکہ انسانیت کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ تم تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ کرنے والے ہو۔تم اچھی اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہو۔یہ پوری اُمت کی ذمہ داری ہے کہ نیکی کی اور اچھی باتوں کی طرف توجہ دلائیں ، اس کا حکم دیں۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ خیر امت اس لئے ہو کہ بُرائی سے روکتے ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہو۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام کی پہلی چند صدیوں تک مسلمانوں نے خیر امت ہونے کو دنیا پر ثابت کیا حکومت کے معاملات چلاتے ہوئے بلا تخصیص مذہب اگر ایک طرف انصاف قائم کیا تو ساتھ ہی علم کی روشنی سے اس دنیا کو منور کیا۔اگر اسلام کی خوبصورت تعلیم کی تبلیغ کر کے دنیا کو اس کے حلقے میں لائے تو ساتھ ہی علوم وفنون کے نئے نئے راستے بھی دکھائے ، نئے نئے دروازے بھی کھولے۔جہاں نیکیوں کو پھیلانے کی کوشش کی وہاں برائیوں اور ظلموں کے خاتمے کی بھی کوشش کی اور اس کے خلاف جہاد کیا۔غرضیکہ انسانیت کی بہتری کے لئے جو کچھ وہ کر سکتے تھے کرتے رہے لیکن پھر ہوس پرستوں نے ، ذاتی مفادات رکھنے والوں نے باوجود اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے کہ اس تعلیم کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ محفوظ رکھے گا اس پر عمل نہ کر کے اور بھلائیوں اور نیکیوں کو خیر باد کہ کر اور برائیوں پر عمل کر کے اپنے آپ کو بڑی تعدا دسمیت خیر امت کہلانے سے محروم کر لیا اور ایک شاعر کو یہ کہنا پڑا کہ گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی (با نگ درا از کلیات اقبال صفحه 139 ناشر: جواد اکمل بث مطبع نیاز جہانگیر پرنٹرز ، غزنی سٹریٹ اردو بازارلا ہور ) لیکن خدا تعالیٰ نے جب قرآن کریم کی تعلیم کو محفوظ کرنے کا وعدہ فرمایا تو اس کتاب قرآن کریم میں بیان کی گئی باتوں کو قصے کہانیوں کے طور پر محفوظ رکھنے کا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ اس تعلیم پر عمل کرتے چلے جانے والے گروہ اور جماعت کے پیدا کرنے کا بھی وعدہ فرمایا تھا۔تا کہ اُمت مسلمہ پھر سے خیر امت کی عظیم تر شوکت سے دنیا میں ابھرے نیکیوں کی تلقین کرنے والی ہو۔اسلام کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے والی ہو۔برائیوں کو بیزاری سے ترک کرنے والی ہو اور بلاتخصیص مذہب وملت انسانیت کی خدمت پر مامور ہو اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے