خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 30
30 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 جاتی ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ ہم نے جو تیرے سے عہد کئے ہیں وہ ہم کبھی نہ توڑیں۔جس طرح پہلے لوگوں نے توڑے اور پھر ان کو سزا کا سامنا کرنا پڑا۔اضر کے معنی کئی ہیں جن میں سے ایک عہد اور معاہدہ بھی ہے اس لئے اس حوالے سے میں نے یہ بات کی ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی معنی ہیں مثلاً بہت مشکل قسم کا معاہدہ، بہت بڑی ذمہ داری جس کے نہ کرنے سے پھر سزا ملے، کوئی گناہ یا جرم۔اس لحاظ سے ایک مومن دعا مانگتا ہے کہ پہلے لوگ اپنے وعدے پورے نہ کر سکے اور وہ وعدے پورے نہ کر کے، معاہدوں پر عمل نہ کر کے احکامات پر عمل نہ کر کے تیری سزا کے مورد بنے۔اے اللہ تعالیٰ ! تو ہمیں ایسے اعمال سے بچانا۔پھر فرمایا کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ کہ اے اللہ ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ بعض دفعہ دنیاوی امتحانوں کے ذریعہ سے بھی بندوں کو آزماتا ہے تو یہاں اس حوالے سے بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کے دنیاوی امتحان اور ابتلاء سے ہمیں بچائے ایسا نہ ہو کہ کوئی بھی امتحان ہماری طاقت سے باہر ہو۔اصل میں تو مومن کو ہمیشہ روحانی ابتلاؤں کے ساتھ دنیاوی امتحانوں سے بھی بچنے کی دعا مانگتے رہنا چاہئے۔یہ نہیں کہ جب حالات اچھے ہوں تو یاد خدا نہ رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ بعض اوقات دنیاوی لحاظ سے بھی مومنوں کو آزماتا ہے تو ایک مومن اس دعا کو ہمیشہ سامنے رکھتا ہے کہ میرا امتحان کسی بھی طرح میری طاقت سے بڑھ کر نہ ہو۔کیونکہ بعض دفعہ دنیاوی امتحانوں کی وجہ سے روحانی ابتلا بھی آجاتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے کسی قسم کا دنیاوی امتحان لینا بھی ہے تو اتنی طاقت بھی عطا فرمائے کہ میں اسے برداشت کر سکوں۔کئی طریق سے اللہ تعالیٰ آزماتا ہے۔اولاد کے ذریعہ سے، مال کے ذریعہ سے، اور بہت سارے ذرائع ہیں۔تو ہر صورت میں ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی پناہ کی تلاش کرتے رہنا چاہئے اور ہر دو قسم کے ابتلاؤں سے بچنے کے لئے یہ دعا سکھلائی کہ یہ دعا مانگو کہ وَاعْفُ عَنَّا کہ اگر ارادہ یا غیر ارادی طور پر بھی ہم نے وہ کام نہیں کئے جو ہمیں کرنے چاہئے تھے اور اس کے نتیجہ میں ابتلاء آیا ہے تو ہم التجا کرتے ہیں کہ ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہمیں معاف فرما اور ہمیں اس کے بداثرات سے بچالے۔پھر فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ وَاغْفِرُ لَنَا ہمیں بخش دے۔غَفَر کے معنی ڈھانکنے کے بھی ہیں اور اس طرح معاملے کو درست کرنے اور اصلاح کرنے کے بھی ہیں اور مٹادینے کے بھی ہیں۔گویا یہ دعا ہے کہ اے اللہ! ہمارے تمام ایسے کام جو تیرے نزدیک غلط ہیں ہماری خطا معاف کرتے ہوئے ان کے بداثرات کو مٹا دے اور انہیں ختم کر دے اور آئندہ ہمیں اپنے معاملے درست رکھنے اور ہمیشہ اصلاح کی طرف مائل رہنے کی توفیق بھی عطا فرما تاکہ ہماری خطائیں کبھی تیری ناراضگی مول لینے والی نہ بنیں۔پھر فرمایا یہ دعا کرو وَارْحَمْنَا ہم پر رحم کر۔یعنی ہمارے سے نرمی اور مہر بانی کا سلوک رکھ محض اور محض اپنے رحم کی وجہ سے ہماری غلطیوں کو معاف فرما اور نہ صرف معاف فرما بلکہ تیرے رحم کا تقاضا ہے کہ اس معافی کے ساتھ