خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 439
439 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ستمبر 2009 تعالیٰ کے ذکر کو نہیں بھولیں گے اور عبادات کے باقی لوازم بھی حسب شرائط پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔اور آج کا جمعہ پڑھ کر مسجد سے نکلنا آئندہ ہفتے میں آنے والے جمعہ کے استقبال کی تڑپ پیدا کرنے والا ہونا چاہئے اور ہوگا۔نہ کہ ہمیں کسی ایسے جمعۃ الوداع کی ضرورت ہے جو رمضان کا آخری جمعہ ہو، جو سال میں ایک دفعہ آتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف نہ رکھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ سال کے اکاون باون جمعے اور بھی ہیں جن کا استقبال اتنا ہی ضروری ہے جتنا رمضان کے آخری جمعے کا۔پس آج کا جمعہ جو اس رمضان کا آخری جمعہ ہے یہ ہمیں اس طرف تو بیشک توجہ دلانے والا ہو اور خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جن سے سارا سال جمعہ کی ادائیگی میں سستی ہوتی رہی کہ آج اس جمعہ میں ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ اس جمعہ کو جو رمضان کا آخری جمعہ ہے الوداع کر کے ہم اگلے سال رمضان میں آنے والے جمعہ کا استقبال نہیں کریں گے بلکہ آئندہ ہفتے میں آنے والے جمعہ کا استقبال کریں گے۔لیکن یہ کبھی نہ ہو کہ اس جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد ہم اپنی برائیوں ، کمزوریوں ، خامیوں، سستیوں کو یکسر بھول جائیں بلکہ ہمیشہ ان کو یا درکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے والے ہوں۔میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رمضان میں جمعہ پر جو حاضری یہاں مسجد بیت الفتوح میں ہمیں نظر آتی رہی ہے وہ دنیا میں ہر جگہ ہماری مساجد میں نظر آئی ہوگی۔میری یہ بھی دعا ہے کہ خدا کرے کہ مسجد میں جمعہ کے لئے آنے کا یہ خوش کن رجحان ہمیشہ کے لئے قائم رہے اور ہر احمدی کو اس بات کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے۔اس زمانے میں ہر احمدی کی یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ یہی ان آیات سے ثابت ہے جومیں نے تلاوت کی ہیں۔یہ سورۃ جمعہ کے آخری رکوع کی آیات ہیں اور ان کو شروع ہی اس طرح کیا گیا ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، جب جمعہ کے لئے بلایا جائے تو پھر تمہارا ایک ہی مقصود و مطلوب ہونا چاہئے کہ جمعہ کی نماز پڑھنی ہے اور باقی تمام کاموں کی حیثیت اب ثانوی ہو گئی ہے۔اگر اس آیت سے پہلے کی آیات کو دیکھیں تو ان میں یہودیوں کا ذکر ہے جن پر تو رات اتاری گئی تھی۔مگر انہوں نے اس کی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔نیز با وجود واضح پیشگوئیوں کے آنحضرت ﷺ کا بھی انکار کیا۔اور یہ انکار تو ہونا ہی تھا کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا اس کی تعلیم جو تھی وہ اس کو بھول گئے تھے اور اس پر عمل ختم کر دیا تھا۔اس کی کئی تاویلیں پیش کرتے تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں بھی فرمایا ہے کہ اس وجہ سے کہ انہوں نے عمل چھوڑ دیا ان کا تو ایسا حال ہے جیسے گدھے پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔بہر حال عبادت کے خاص دن کے حوالے سے جو انہیں حکم تھا ، جو ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا ،، جو ہر سات دن بعد آتا تھا اس کو بھی انہوں نے بھلا دیا۔اور سبت کا دن جوان کے لئے ایک خاص دن تھا اس میں بھی کئی قسم کی ایسی حرکات کیں جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند تھیں۔سبت ہفتے کے دن کو بھی کہتے ہیں