خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 27

27 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 انتظار کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق نہیں ہے۔قرآن پر ایمان کا دعوی کرنے کے باوجود قرآن کی اس بات کا رو کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور کوئی شخص جو اس دنیا میں آئے کبھی زندہ آسمان پر نہیں جاتا ، بلکہ اس کی روح جاتی ہے۔اس دنیا میں آنے والی ہر چیز فانی ہے۔اس آیت میں تو تمام رسولوں پر ایمان کی بات ہے۔پھر یہ لوگ مسیح موعود کا انکار کر کے تمام رسولوں پر ایمان کی بھی نفی کر رہے ہیں۔اور ساتھ ہی عام مسلمانوں کو جن کا علم محدود ہے ان کو اپنے پیچھے لگا کر ان کے ایمان میں بھی رخنہ پیدا کر رہے ہیں۔پس اس حقیقت کو ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے۔حدیثیں بھی پڑھتے ہیں۔قرآن بھی پڑھتے ہیں۔جہاں واضح طور پر ان باتوں کی طرف اشارہ ہے اور پھر بھی نہیں سمجھتے۔تو ان کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ جس طرح ہمیشہ انبیاء آئے ہیں اسی طرح مسیح موعود نے بھی آنا تھا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعوی کیا ہے تو اس کی دلیلیں بھی پیش کی ہیں۔خدا تعالیٰ کی فعلی تائید بھی ان کے سچا ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔اب ان لوگوں کو چاہئے کہ عقل کریں اور اس مسیح موعود کو مان کر مومنین کے گروہ میں شامل ہوں۔اس گروہ میں شامل ہوں جو سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہنے والے ہیں اور جنہوں نے سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا پر عمل کیا وہی پھر غُفْرَانَكَ رَبَّنَا یعنی اے ہمارے رب ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں، کی اس دعا کے بھی صحیح حقدار بنیں گے اور بنتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے پر اللہ تعالیٰ کی جنت کو حاصل کرنے والے بھی بنیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان بھائیوں کو بھی اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اگلی آیت جو سورۃ البقرہ کی آخری آیت ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے شروع ہی اس بات سے کیا ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات انسانی وسعت کے اندر ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے احکام دیتا ہی نہیں جو انسانی طاقت سے باہر ہوں۔لوگ کہتے ہیں جی فلاں حکم بڑا مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا کوئی حکم ایسا نہیں جو طاقت سے باہر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں ، اخلاق میں ، عبادات میں، آنحضرت ﷺ کی پیروی کریں۔پس اگر ہماری فطرت کو وہ قو تیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت علیہ کے تمام کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔طاقت سے بڑھ کر کوئی تکلیف نہیں دیتا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا “۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 156) پس یہ جو فرمایا ہے کہ یہ آخری دو آیات کافی ہیں۔یہ صرف پڑھ لینے سے نہیں بلکہ پہلی آیت میں ایمان پر مضبوط ہونے کا حکم ہے اور جب ایمان مضبوط ہو جائے تو وہ اس قسم کی حرکت کر ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ باتوں