خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 398

398 خطبه جمعه فرموده 28 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم رمضان میں یہ صورتحال ہوتی ہے۔پس کیا یہ ہماری خوش قسمتی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور رمضان سے ہمیں فائدہ اٹھانے کا فیض حاصل کرنے کا موقع مہیا فرما دیا۔اللہ تعالیٰ تو عام حالات میں بھی ایک نیکی کے بدلے کئی گنا ثواب دیتا ہے اور گناہ کی سزا اُس (گناہ) کے برابر ہے۔لیکن ان دنوں میں تو جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔وہ اپنے بندے پر بے شمار فضل نازل فرما رہا ہوتا ہے۔اور عام حالات میں تو شیطان کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ ہر راستے سے بندوں کو ورغلانے کی کوشش کرتا ہے اور بعض اوقات نیکیاں بجالانے والے بھی اس کے بھرے میں ، اس کی چال میں آجاتے ہیں، اس کے دھوکے میں آ جاتے ہیں اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کی رفتار میں ستی پیدا ہو جاتی ہے۔اصل میں شیطان بعض اوقات بعض نیک لوگوں کو بھی نیکی کے روپ میں برائی کی طرف لے جارہا ہوتا ہے۔لیکن یہاں تو آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان فرمایا ہے اور یقینا اللہ تعالی کے اذن سے یہ اعلان فرمایا ہے کہ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ کہ شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور شیطان نے اپنے چیلے مختلف راستوں پر انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے بٹھائے ہوئے ہیں ، ان سب کو جکڑ دیا جاتا ہے۔پس موقع ہے اس رمضان کے روحانی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہر قسم کی نیکیاں بجالاتے ہوئے ، جنت کے جتنے زیادہ سے زیادہ دروازوں سے داخل ہوا جا سکتا ہے انسان داخل ہونے کی کوشش کرے۔ان بلندیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جہاں تک شیطان کی پہنچ نہ ہو اور پھر ان معیاروں کو ہمیں اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے چلے جانا چاہئے۔عبادتوں کے معیار بھی بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں۔صدقہ و خیرات میں بھی بڑھتے چلے جائیں کہ ہم نے اپنے آقا و مطاع محمدرسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرنا ہے جن کا ہاتھ صدقہ وخیرات کے لئے رمضان میں تیز آندھی کی طرح چلا کرتا تھا۔( بخاری کتاب الصوم باب اجود ما کان النبی یکون فی رمضان 1902) اخلاق حسنہ کی بجا آوری ہے اس میں بھی نئے سے نئے معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کر کے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش بھی خاص لگن اور شوق سے کرنی چاہئے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔پس ہم خوش قسمت ہوں گے اگر ہم رمضان کے ان دنوں میں رمضان کی برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے خالص بندے بن جائیں۔ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جن کے بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔پس روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزے ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے اور اگر اس کو کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو اسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ میں تو روزہ دار ہوں۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طیب