خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 363

363 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 فرماتے ہیں کہ ” اے اندھو! اب سوچو کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت کس کو ملی؟ عبد الحق تو میری ذلت کے لئے دعائیں کرتا تھا۔یہ کیا واقعہ پیش آیا کہ آسمان بھی مجھے عزت دینے کے لئے جھکا۔کیا تم میں ایک بھی سوچنے والا نہیں جو اس بات کو سوچے۔کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے۔زمین نے عزت دی، آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔“ پھر فرمایا 'پانچواں وہ امر جو مباہلے کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا علم قرآن میں اتمام حجت ہے۔میں نے یہ علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ اور کیا بطالوی کا گروہ، غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے انہوں نے مہر لگادی۔فرماتے ہیں اور اسی زمانے میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی۔اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔پھر فرماتے ہیں اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی“۔”چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبدالحق کی ذلت کا موجب ہوا یہ ہے کہ عبدالحق نے مباہلے کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک فرزند اس کے گھر میں پیدا ہوگا اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اشتہار انوار الاسلام میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے گا۔سوخدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں تو لڑکا پیدا ہو گیا جس کا نام شریف احمد ہے ( حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی پیدائش کا بیان ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔فرماتے ہیں ” کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔پھر فرماتے ہیں ساتواں امر جو مباہلے کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا۔مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکوں جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے وارد حال ہو گئے۔روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا ہوں یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے وہ علم قرآن اور علم زبان محض اعجاز کے طور پر بخشا کہ اس کے مقابل پر صرف عبدالحق کیا بلکہ گل مخالفوں کی ذلت ہوئی۔ہر ایک خاص و عام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ صرف نام کے مولوی ہیں۔فرماتے ہیں اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں۔مباہلہ کے روز سے آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا جو اس سلسلہ