خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 351

351 خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مخلوقات کو اٹھائے گا تو اپنے ایک بندے سے پوچھے گا کہ میرے ایک بندے نے تجھ پر احسان کیا۔کیا تو نے اس کا شکریہ ادا کیا؟ تو وہ جوابا کہے گا کہ اے میرے رب مجھے معلوم تھا کہ یہ تیری طرف سے احسان ہے اس لئے میں نے تیرا شکر ادا کیا۔اس پر اللہ کہے گا کہ تو نے میرا شکریہ ادا نہیں کیا کیونکہ تو نے اس کا شکر یہ ادا نہیں کیا جس کے ہاتھ سے میں نے تجھ پر احسان کیا۔(کنز العمال جلد 3 صفحہ 297 کتاب الاخلاق حدیث نمبر 8621 ، دارالکتب العلمیة بیروت طبع دوم 2004 ء) تو یہ ہے رویہ جو مومنوں کا ایک دوسرے کے لئے ہونا چاہئے اور یہی رویے ہیں جو ایک لڑی میں پروئے جانے کے نظارے پیش کرتے ہیں۔اب میں بعض مہمانوں کے تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں جو جماعت میں شامل نہیں لیکن جلسے میں شامل ہوئے ہمارے تعلقات کی وجہ سے ان کو موقع ملا۔اور انتظامات سے بھی بے حد متاثر ہوئے اور جلسے کے ماحول نے بھی ان پر ایک روحانی اثر ڈالا۔اسی طرح بعض احمدی جو پہلی دفعہ آئے اور جلسے نے ان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کیا ان کے بھی کچھ تاثرات ہیں۔پہلے تو سویڈن کی کال مارک کاؤنٹی کے صدر ہیں یورپی یونین سے نمائندگی کر رہے ہیں، راجر کیلف۔انہوں نے وہاں جلسے پر کچھ بیان بھی کیا تھا لکھ کر بھی دیا کہ میں نے اپنے ملک میں اپنی پارٹی کے لئے دنیا کے بہت سے ملکوں میں کانفرنسوں میں شرکت کی ہے اور آر گنا ئز بھی کی ہیں اور جلسے بھی اٹینڈ (Attend) کئے ہیں مگر جو پیار اور محبت کی فضاہر رنگ نسل اور ملک اور مختلف لباس پہنے ہوئے احباب کے درمیان دیکھی ہے ، مجھے اس کی مثال کہیں نظر نہیں آئی۔اور خاص طور پر لمبے لمبے اجلاس اٹینڈ کرنے کے بعد پنڈال سے باہر آ کر تھکاوٹ کا بالکل احساس نہیں ہوا کیونکہ ہر طرف سے احباب اتنے پیار اور محبت سے ملتے تھے کہ تھکاوٹ کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔افریقہ سے آئے ہوئے بادشاہ اور یورپ سے آئے ہوئے پارلیمنٹ کے ممبران اور دوسرے سیاسی لیڈران کو بھی ملنے کا جماعت احمدیہ نے پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔جو اپنی مثال آپ ہے۔پھر سویڈن کے ہی ایک بڑے بوڑھے سیاستدان ہیں 74-75 سال ان کی عمر ہے ، کہتے ہیں کہ پیار محبت اور ڈسپلن کا جو مظاہرہ میں نے ان تین دنوں میں اس جلسہ گاہ میں دیکھا ہے وہ بے مثال تھا، ایک ہی آواز پر سب کھڑے ہو جاتے تھے اور ایک ہی آواز پر سب بیٹھ جاتے تھے اور یہ سب صرف ایک شخص کی محبت کی وجہ سے تھا۔یہ میری زندگی کا پہلا اور واحد اور عجیب تجربہ تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔میں نے اپنی 74 سالہ زندگی میں جس مسرت اور لذت کا تجربہ یہاں کیا وہ منفرد ہے جو میرے لئے بیان کرنا ممکن نہیں۔