خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 306
306 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 ناکام رہیں گے۔اور جن الزاموں کے قائم کرنے کے لئے وہ فکر میں ہیں ان تمام الزاموں سے میں تجھے پاک اور منز ارکھوں گا۔یعنی مصلوبیت اور اس کے بدنتائج سے صلیب دینے کا یہودیوں کا جو نظر یہ تھا اس کے بدنتائج سے ) جو لعنتی ہونا اور نبوت سے محروم ہونا اور رفع سے بے نصیب ہونا ہے ( یعنی اپنے درجات بلند ہونا اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے اور اس جگہ توفی کے لفظ میں بھی مصلوبیت سے بچانے کے لئے ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ توفی کے معنے پر غالب یہی بات ہے کہ موت طبعی سے وفات دی جائے۔یعنی ایسی موت سے جو محض بیماری کی وجہ سے ہو نہ کسی ضرب سقطہ سے۔اسی وجہ سے مفسرین صاحب کشوف وغیرہ انِي مُتَوَفِّيكَ کی یہ تفسیر لکھتے ہیں کہ اِنِّي مُمِيتُكَ حَتْفَ أَنْفِكَ کسی چوٹ سے یا گرنے سے یا کسی وجہ سے جو وفات ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وہ وفات اس کے توفی کا لفظ نہیں آتا۔بلکہ جو وفات طبعی موت سے وفات دی ہو وہی موت ہے جہاں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔فرمایا ہاں یہ اشارہ آیت کے تیسرے فقرہ میں کہ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ہے اور بھی زیادہ ہے۔غرض فقرہ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا جیسا کہ تیرے مرتبہ پر بیان کیا گیا ہے ایسا ہی ترتیب طبعی کے لحاظ سے بھی تیسری مرتبہ پر ہے۔( یعنی میں تجھے پاک کروں گا۔بچاؤں گا ان لوگوں سے )۔" کیونکہ جب کہ حضرت عیسی کا موت طبعی کے بعد نبیوں اور مقدسوں کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو گیا تو بلاشبہ وہ کفار کے منصوبوں اور الزاموں سے بچائے گئے اور چوتھا فقرہ وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ جیسا کہ ترتیا چوتھی جگہ قرآن کریم میں واقع ہے ایسا ہی طبعاً بھی چوتھی جگہ ہے کیونکہ حضرت عیسی کے متبعین کا غلبہ ان سب امور کے بعد ہوا ہے سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقع ہیں۔( یہ قدرتی ترتیب ہے اور یہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے۔کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا کمال بلاغت میں داخل ہے اور عین حکمت ہے“۔( قرآن کریم کی یہی شان ہے اور یہی اس کی بلاغت ہے اور یہی اس کا حکیم ہوتا ہے یہ حکمت کی باتیں کرنا ہے کہ اس میں ترتیب پائی جاتی ہے ہر چیز میں )۔اسی وجہ سے ترتیب طبعی کا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیونکر پہلے ربّ العالمین کا ذکر کیا پھر رحمن ، پھر رحیم پھر مالِكِ يَوْمِ الدِّين اور کیونکر فیض کے سلسلے کو ترتیب وار عام فیض سے لے کر اخص فیض تک پہنچایا۔( ایک عام فیض ہے جو ہر ایک کے لئے ہے اور ایک خاص فیض ہے جو خاص لوگوں کے لئے ہے)۔فرمایا " غرض موافق عام طریق کامل البلاغه قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔( قرآن کریم جو ہے جو ایسی کامل کتاب ہے ، فصاحت و بلاغت کا منبع ہے وہ اس کا جو عام طریق ہے اس کے مطابق ہی یہ ترتیب بھی بیان ہوئی ہے)۔فرمایا کہ آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں لیکن حال کے متعصب ملا جن کو یہودیوں کی طرز پر يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِه ( یعنی الفاظ کو اپنی جگہ سے ادل بدل دیتے ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) کی عادت ہے اور جو سیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے بے طرح ہاتھ پیر مار