خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 221

خطبات مسرور جلد ہفتم 221 (20) خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 فرمودہ مورخہ 15 رمئی 2009ء بمطابق 15 ہجرت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں ، میں نے خدا تعالیٰ کے واسِعُ ہونے کے حوالہ سے قرآن کریم میں بعض امور اور جو احکامات بیان ہوئے ہیں ، ان کا ذکر کیا تھا۔آج بھی یہی سلسلہ آگے چلے گا اور اس تسلسل میں بعض آیات کی روشنی میں جن میں متنوع اور مختلف قسم کے مضامین بیان کئے گئے ہیں، جن کا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی سے بھی ہے اور ہماری اخلاقی اور روحانی حالتوں سے بھی ہے ان کا ذکر کروں گا۔اللہ تعالیٰ جو اپنے وسیع تر علم کی وجہ سے ہمارے ہر عمل کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس نے یہ امور اور احکامات بیان فرما کر ہماری ان راستوں کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جن پر چل کر ہم اللہ تعالیٰ کے وسیع تر فضلوں کے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق حصہ دار بن سکتے ہیں ، ان کو سمیٹنے والے بن سکتے ہیں، ان سے فیض پانے والے بن سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس حوالہ سے ہمارے عائلی معاملات کے بارہ میں بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ہمارے معاشرتی معاملات کے بارہ میں بھی رہنمائی فرمائی ہے۔ہماری دینی حالتوں کو صحیح نہج پر چلانے کے لئے بھی راہنمائی فرمائی ہے۔ہماری روحانی اور اخلاقی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی طرف بھی راہنمائی فرمائی ہے۔غرض ہر پہلو جو بھی انسانی زندگی کا ہے اس بارہ میں خدا تعالیٰ مکمل احاطہ کئے ہوئے ہے، اس بارہ میں ہماری راہنمائی فرماتا ہے۔کیونکہ انسان کو بھی خدا تعالیٰ نے اپنی صفات کو اپنانے کا حکم فرمایا ہے اس لئے اس صفت کے حوالہ سے اسے بھی اپنے روحانی اور اخلاقی مرتبوں کے حصول کے لئے اپنی کوششوں اور عملوں میں وسعت پیدا کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والا بن سکے۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتا دیا کہ مجھے کیونکہ تمہاری استعدادوں کا علم ہے اس لئے جو کام میں نے تمہارے سپرد کئے ہیں وہ تمہاری استعدادوں سے بڑھ کر نہیں ہیں۔تو پھر ان استعدادوں کی وسعت بھی ہر انسان کی برابر نہیں ہوتی۔اور جب استعدادیں برابر نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ جب حکم دیتا ہے تو اتناہی دیتا ہے جتنا کسی کی طاقت ہے۔لیکن اپنی استعدادوں کی حدود مقررکرنا انسان کا کام نہیں ہے۔یہ