خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 220

220 خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے نشانوں کو دیکھو، ان پر ایمان لاؤ اور میرے بھیجے ہوئے کی تضحیک نہ کرو تو تم پر میری رحمت کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔رحمت پھیلتی چلی جائے گی اور ان پر یہ ضرور واضح ہو جائے گی جو نیک اعمال بجالا رہے ہوں گے۔باقی اللہ تعالی مالک ہے۔اس نے خود فرمایا جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس کو چاہے گا بخش دے گالیکن کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی صفت کو ہر چیز پر حاوی کیا ہوا ہے اس لئے بندے کو یہی امید رکھنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کی امید رکھتے ہوئے اس کے احکامات پر چلنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ایک مومن کا تو خاص طور پر یہ کام ہے۔اس کا یہ کام نہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے اپنے پر واجب کی ہے اسے چھوڑ کر اس بات کو پکڑے کہ خدا کی رحمت وسیع ہے اس لئے ، جو مرضی کرتے رہو بخشا جاؤں گا۔یہ بیوقوفوں کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو نہ سمجھنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں کہ : ” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی (صفت) عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے۔یعنی یہ صفت قانون الہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے۔(جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 207) کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو بے شک وسیع ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی صفت عدل کے تحت غضب بھی رکھتا ہے۔جب وہ فیصلہ کرنے لگتا ہے تو انصاف کرتا ہے۔جب انسان قانون الہی جو ہے اس کو توڑتا ہے، اپنی حدوں سے بڑھتا ہے تو اس وقت یہ جو عدل کی صفت ہے اپنا حق پیدا کر دیتی ہے اور اس وقت اس کی خصوصیت پیدا ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو قانون قدرت رکھا ہے اس کے تحت حد سے زیادہ بڑھنے والوں کو سزا بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔اس لئے اس نے گناہگاروں کے بارہ میں رحمت حاوی کرنے کا نہیں فرمایا بلکہ تقویٰ پر چلنے والوں، زکوۃ دینے والوں اور جو خدا تعالیٰ کے نشانوں پر ایمان لانے والے ہیں ان کے بارہ میں فرمایا کہ ان پر میری رحمت واجب ہے۔پس ایک مومن کا کام ہے کہ اس رحمت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی وسیع تر رحمتوں کی امید رکھے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شمارہ 22 مورخہ 29 مئی تا 4 جون 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 7)