خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 210

210 خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس حصہ آیت کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الهدی ” ان کو کہہ دے کہ تمہارے خیالات کیا چیزیں ہیں۔ہدایت وہی ہے جو خدا تعالی براہ راست آپ دیتا ہے۔ور نہ انسان اپنے غلط اجتہادات سے کتاب اللہ کے معنی بگاڑ دیتا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے۔وہ خدا ہی ہے جو غلط نہیں کھاتا لہذا ہدایت اسی کی ہدایت ہے اپنے خیالی معنے بھروسے کے لائق نہیں “ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 88-87) اور یہی حقیقی ہدایت اور اسلام کی تعلیم ہے۔یہ ہے وہ چیز جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے۔اب اس ہدایت کو چھوڑ کر ہم ان لوگوں کے پیچھے چلے جائیں۔جو آج تک قرآن کریم کی آیات کے ناسخ اور منسوخ کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔یا پہلے تو چودھویں صدی کا انتظار کرتے رہے کہ مسیح اور مہدی آئے گا اور صدی لمبی ہوگی اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے انکار پر مصر ہیں۔یا جو ایک دوسرے پر ایک ہی کتاب اور ایک ہی رسول کے ماننے والے ہونے کے باوجود کفر کے فتوے دے رہے ہیں۔پس ہم نے تو اس اللہ تعالیٰ کا فہم اس مسیح و مہدی سے پایا ہے جس نے آنحضرت ﷺ کو آخری شرعی نبی بنا کر بھیجا ہے۔ہم اُس اللہ تعالیٰ کا فہم رکھتے ہیں جس نے آنحضرت ﷺ کو آخری شرعی نبی بنا کر بھیجا ہے اور جس نے آپ پر قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو تمام ہدایتوں کا سرچشمہ ہے اور یہ فہم ہمیں اللہ تعالیٰ کا اس زمانے کے امام مسیح اور مہدی نے عطا کیا ہے۔پس اس زمانہ میں جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی فرمائی ہے۔ہماری ہدایت کے لئے ہمیں نفع پہنچانے کے لئے ہمارے فائدہ کے لئے تو پھر میں کیا ضرورت ہے کہ اس خدا کو چھوڑ کر ہم اس کے علاوہ کسی اور خدا کو ماننے والے بنیں۔اگر آج ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے بارے میں شک میں پڑیں تو پھر ہم ان تائیدات ارضی اور سماوی کو کیا کہیں گے جو خدا تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے حق میں پوری فرما ئیں اور آج تک اپنے وعدہ کے موافق پوری فرماتا چلا جا رہا ہے۔اپنے وعدہ کے موافق نشانات دکھلاتا چلا جارہا ہے۔اگر یہ کسی بندے کا کام ہوتا تو گزشتہ ایک سو بیس سال سے جو ممکنہ انسانی کوششیں ہو سکتی تھیں دشمنان احمدیت نے کیں ، احمدیت کو ختم کرنے کی لیکن ہمارا خدا ہمیں ہمیشہ ترقیات کی نئی منزلیں دکھاتا چلا گیا اور اپنے مخالفین کو ہم نے ہمیشہ حواس باختہ ہی دیکھا ہے اور ان کی حالتیں دیکھ کر ہمارے ایمان اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے مامور اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق پر اور بھی پختہ ہوا ہے۔پس ہمیں دعوت دینے کی بجائے ہم تم لوگوں کی دعوت دیتے ہیں کہ آؤ اور اس مسیح و مہدی کی جماعت میں داخل ہو جاؤ اسی میں تمہاری بقا ہے اور اسی میں تمام دنیا کی بقا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی مجلس میں فیضی ساکن بھیں کا تذکرہ ہورہا تھا جس نے اعجاز مسیح کا جواب لکھنا چاہا تھا اور اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اٹھا لیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مجلس میں فرمایا۔