خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 195

195 خطبہ جمعہ فرمود ه 24 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ایسے ہیں، اتنے دلیر ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو اوامر و نواہی مقرر کئے ہیں ان کی طرف توجہ نہیں دیتے اور بڑی دلیری سے اُن باتوں کو کرتے ہیں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔جبکہ ایک دنیا وی حکومت جو ہے اس سے ڈرتے ہیں۔تو فرمایا کہ ” بہت سے لوگ ہیں جو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے پھر کیوں احکم الحاکمین کے قوانین کی خلاف ورزی میں دلیری پیدا ہوتی ہے؟ کیا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟ بجز اس کے کہ اس پر ایمان نہیں ہے؟ یہی ایک باعث ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 466 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر دوسروں کو اپنے علم سے فائدہ پہنچانے کا بھی حکم ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر علم ہے چاہے وہ دنیا وی علم ہے یا دینی علم ہے، اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچاؤ گے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے ایک نفع مند اور فائدہ بخش سودا کر رہے ہو گے۔اور جو علم خدا تعالیٰ نے دیا ہے اگر اسے چھپائے رکھو گے کہ اگر یہ بات میں نے کہیں دوسرے کو بتادی تو اس کے علم میں بھی اضافہ نہ ہو جائے تو آنحضرت ﷺ نے ایسے شخص کو بڑا انذار فرمایا ہے اور اپنی امت کو نصیحت فرمائی کہ اس بات سے ہمیشہ بچو بلکہ ان سے بچنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے بعض دعا ئیں بھی ہمیں سکھا ئیں۔آپ جو انسان کامل تھے جن کا ایک ایک لمحہ اور سانس دوسروں کے فائدہ کے لئے وقف تھا۔آپ جب صحابہ کے سامنے یہ دعائیں کرتے تھے تو اصل میں انہیں سکھاتے تھے کہ ہمیشہ یہ دعائیں مانگو اور امت میں ان کو رائج کرو اور کرتے چلے جاؤ کہ اصل منافع اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ان دعاؤں میں سے دو دعا ئیں میں اس وقت پیش کرتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ: اے اللہ ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اُس دل سے جو نہ ڈرے اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے اور اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس علم سے جو فائدہ نہ دے۔میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔(سنن الترمذی۔کتاب الدعوات۔باب 68/68 - حدیث نمبر 3482) پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم نے جب صبح کی نماز ادا کرتے تو سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا کرتے کہ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلا کہ اے اللہ میں تجھ سے ایسا علم مانگتا ہوں جو نفع رساں ہو۔ایسا رزق جو طیب ہو اور ایسا عمل جو قبولیت کے لائق ہو۔( سنن ابن ماجہ کتاب الصلوۃ والستة - باب ما یقال بعد تسلیم - حدیث نمبر (925) پس اپنے آپ کو نافع وجود بنانے کے لئے ، نیک اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو شیطان کے بہکاوے میں آنے سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اس وقت