خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 194

194 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس طرح کی مدد کی بھی ایک اعلیٰ ترین مثال آنحضرت ﷺ نے قائم فرمائی۔ایک بڑھیا جسے آپ کے خلاف خوب بھڑ کایا گیا تھا جب نئی نئی شہر میں آئی تھی تو اس کا سامان اٹھا کر اسے منزل مقصود تک آپ نے پہنچایا۔وہ آپ کو جانتی نہیں تھی کہ آپ کون ہیں؟ اس نے انجانے میں آپ کو بہت کچھ کہا۔آپ سنتے رہے لیکن آپ نے اظہار نہیں کیا۔اور منزل پر پہنچ کر جب بتایا کہ وہ میں ہی ہوں جس سے بچنے کا تمہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ اس جادوگر سے بچ کے رہنا تو بے اختیار اس بڑھیا کے منہ سے نکلا کہ پھر مجھ پر تو تمہارا جادو چل گیا۔تو کسی بھی رنگ میں کسی کی تکلیف دور کر کے اسے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا یہ بھی صدقہ جتنا ہی ثواب دیتا ہے اور پھر جب صحابہ نے کہا کہ اگر یہ بھی نہ ہو سکے، کوئی بالکل ہی معذور ہو تو فرمایا کہ بے شمار نیکیاں ہیں جن کا خدا تعالیٰ نے ہمیں کرنے کا حکم دیا ہے انہیں بجالاؤ ، ان پر عمل کرو۔یہی تمہارے لئے نفع رساں ہے۔اور پھر جو برائیاں ہیں ان سے بچو تو یہ تو ہر غریب سے غریب شخص بھی کر سکتا ہے کہ نیکیوں کو بجالائے اور برائیوں سے بچے۔اس کے لئے تو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔اس کے لئے تو جسمانی طاقت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اب دیکھیں کہ ہمارے پیارے خدا نے چھوٹی سی نیکی کا کتنا اجر رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے اس کی اطلاع ہمیں دی۔اس بارہ میں بھی ایک حدیث میں ہم نے سن لیا کہ مومنوں کے راستے کی تکلیف دور کرنے کے لئے ، راستے سے درخت کی شاخ ہٹانے کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الادب۔باب اماطة الاذى من الطریق حدیث 3682) پس یہ کس قدر منافع بخش سودے ہیں کہ نیکیاں کرنے کے اجر میں اللہ تعالیٰ بے انتہا دیتا ہے۔انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کس حد تک اللہ تعالیٰ اسے نوازتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” انسان کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، بدی سے بچے اور نیکی کی طرف دوڑے اور نیکی کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک ترک شر دوسرا افاضہ خیر۔ایک شر کو چھوڑ نا دوسرے خیر سے فائدہ اٹھانا۔ترک شر سے انسان کامل نہیں بن سکتا جب تک اس کے ساتھ افاضہ خیر نہ ہو۔یعنی دوسروں کو نفع بھی پہنچائے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ کس قدر تبدیلی کی ہے اور یہ مدارج تب حاصل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات پر ایمان ہو اور ان کا علم ہو۔جب تک یہ بات نہ ہو انسان بدیوں سے بھی بچ نہیں سکتا۔فرمایا کہ دوسروں کو نفع پہنچانا تو بڑی بات ہے۔بادشاہوں کے رُعب اور تعزیرات ہند سے بھی تو ایک حد تک ڈرتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔پھر کیوں احکم الحاکمین کے قوانین کی خلاف ورزی میں دلیری پیدا ہوتی ہے“۔یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم ہو تو اس کے احکامات پر عمل ہوگا۔دوسروں کو نفع پہنچانا تو دور کی بات ہے بعض لوگ