خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 193

193 خطبہ جمعہ فرمود ه 24 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم احادیث میں اس منافع کے حصول کے لئے جو سب سے پہلی چیز آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی وہ صدقہ ہے۔جو ضرورت مندوں، غریبوں ، مفلسوں، ناداروں کے بھوک اور نگ کو ختم کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ ایک بکری ذبح کی اور اس کا گوشت غرباء میں اور عزیزوں میں تقسیم کر دیا اور کچھ گھر کے لئے بھی رکھ لیا۔تو آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ بکری ذبح کی تھی۔اس کا کس قدرت گوشت بیچ گیا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ میں نے تمام گوشت تو تقسیم کر دیا، صرف ایک دستی بچی ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سوائے اس دستی کے گوشت کے تمام گوشت بچ گیا۔ترندی ابواب صفۃ القیامۃ باب 98/33 حدیث (2470 کیونکہ اس کا ثواب ہے۔جولوگوں کے فائدے کے لئے خرچ کیا۔اسی پر اصل منافع ملنا ہے اور جو منافع ہے وہی بچت ہے۔پس یہ تو اس انسان کامل کا نمونہ تھا جس کو دنیاوی چیزوں سے ذرا بھی رغبت نہیں تھی اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ان کا اصل مقصد تھا۔ہر انسان اس مقام تک تو نہیں پہنچ سکتا۔لیکن یہ اسوہ قائم کر کے ہمیں یہ سبق دیا کہ ہمیشہ غریبوں کا خیال بھی تمہارے پیش نظر رہنا چاہئے۔کیونکہ حقیقی منافع وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے اور اس بات کی اتنی اہمیت آپ نے بیان فرمائی کہ جب صحابہ نے پوچھا کہ اگر صدقے کی توفیق نہ ہو تو کیا کریں۔تو فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے محنت کرو اور کماؤ۔جس سے تمہیں بھی فائدہ ہو، قوم کو بھی فائدہ ہو۔قوم پر بوجھ نہ بنو۔تم اگر کماؤ گے تو ایک تو قوم پر بوجھ نہیں بنو گے۔دوسرے تم لینے والا ہاتھ نہیں بنو گے بلکہ دینے والا ہاتھ بنو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہوتا ہے۔یہاں مغربی ممالک میں جو حکومت سے سوشل الاؤنس لیتے ہیں انہیں بھی اس بات پر سوچنا چاہئے کہ جس حد تک کام کر کے چاہے کسی بھی قسم کا کام ہو ( بعض دفعہ اپنی تعلیم کے مطابق کام نہیں مانتا تو جو بھی کام ملے وہ کام کر کے ) کوئی جتنا بھی کما سکتا ہو اس کو کمانا چاہئے اور حکومت کے اخراجات کے بوجھ کو کم کرنا چاہئے۔اور ایک احمدی کے لئے تو یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کہ کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے حکومت سے کسی بھی قسم کا الا ونس وصول کرے۔اس قسم کی رقم کا حاصل کرنا نفع کا سودا نہیں ہے بلکہ سراسر نقصان کا سودا ہے۔اسی طرح پاکستان ، ہندوستان اور دوسرے غریب ممالک ہیں ان میں بھی ایک احمدی کو حتی الوسع یہ کوشش کرنی چاہئے کہ لینے والا ہاتھ نہ بنے بلکہ دینے والا ہاتھ بنے۔پھر صحابہ نے جب پوچھا کہ اگر ایسی کوئی صورت ہی نہ بنتی ہو جس سے کوئی کمائی کر سکیں۔کسی بھی قسم کا کام نہیں ملتا اور اگر کچھ ملا تو مشکل سے اپنا گزارا ہوا اور صدقہ دینے کا تو سوال ہی نہیں تو پھر ایسی صورت میں کیا کریں؟۔اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوسروں کی مدد کے مختلف ذرائع ہیں وہ اختیار کروان ذرائع کو استعمال کرو اور کسی حاجتمند کی ، ضرورت مند کی کسی بھی طرح مدد کر دو، کوئی خدمت کر دو۔