خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 186
186 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 17 اپریل 2009 بھی کام جو ہے وہ نیک نیتی سے نہیں کیا جاتا، چاہے خدا تعالیٰ کے نام پر نظام عدل قائم کرنے کی کوشش کی جائے یا دین کو پھیلانے کی کوشش کی جائے یا دین کو پھیلانے کا دعوی کیا جائے یا شریعت قائم کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ دلوں کے تکبر دور نہیں ہوئے۔اپنے اندر باطل معبودوں نے قبضہ جمایا ہوا ہے اور اس وجہ سے زمانے کے امام کا بھی انکار ہے۔اس لئے راستے میں حائل پردے خدا تعالیٰ کے نور کے پہنچنے میں روک بنے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔جہاں وہ ایسا نور ہے جو پاک دلوں میں داخل ہوتا ہے وہاں وہ باریک بینی سے دلوں کے اندرونے دیکھ کر ہر وقت با خبر بھی رہتا ہے کہ کس کے دل میں کیا ہے۔اور جس کا دل باطل معبودوں سے بھرا ہوا ہو، جن آنکھوں میں دنیاوی ہوا و ہوس ہو وہاں خدا تعالیٰ کا نور نہیں پہنچتا۔پس اگر حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان وَ هُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ یعنی وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے، سے فیض پانا ہے تو اپنے دلوں کو پاک کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق دیتا ر ہے۔پھر ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمُ مِنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِى إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لَّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (يوسف: 101) یعنی اور اس نے (حضرت یوسف کا ذکر ہے ) اپنے والدین کو عزت کے ساتھ اپنے تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کی خاطر سجدہ ریز ہو گئے اور اس نے کہا اے میرے باپ ! یہ تعبیر تھی میری پہلے سے دیکھی ہوئی رؤیا کی۔میرے رب نے اسے یقینا سچ کر دکھایا اور مجھے پہ بہت احسان کیا جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں صحراء سے لے آیا ، بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان رخنہ ڈال دیا تھا۔یقیناً میرا رب جس کے لئے چاہے بہت لطف و احسان کرنے والا ہے۔بے شک وہی دائمی علم رکھنے والا اور بہت حکمت والا ہے۔یہ سورہ یوسف کی آیت 101 ہے۔اس آیت میں حضرت یوسف اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف کے تحت مہربانیوں اور احسانوں کا ذکر کر رہے ہیں۔آپ کے پاک دل کی وجہ سے بچپن سے ہی خدا تعالیٰ نے آپ کو رویاء صادقہ دکھا ئیں اور آج جب یہ تمام خاندان اکٹھا ہوا تو بچپن کی رؤیا جو آج پوری ہو رہی تھی آپ کو یاد آ گئی۔باوجود بھائیوں کے ظلموں کے اللہ تعالیٰ آزمائش اور امتحان کے دور میں آپ کا ولی اور دوست رہا۔ہمیشہ آپ کی حفاظت کی اور آج دنیاوی لحاظ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے پر بھی ان کی تھوڑی بہت جو قربانی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت لطیف کے تحت اس کا بے انتہا اجر دیا۔اور پھر نہ صرف حضرت یوسف کی قربانی کا پھل ان کو ملا بلکہ حضرت یعقوب کی قربانی کا پھل بھی ان کو ملا اور آپ کو اللہ تعالیٰ