خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 61
61 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہودی بہائی ہے، مسلمان بہائی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے لکھا کہ ایک انگریز عورت جو بہائی ہوگئی تھی اپنی ایرانی دوست کے ساتھ آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ قرآن کریم تو کامل شریعت لے کر آیا ہے۔کون سی نئی بات ہے جو تمہیں بہاء اللہ نے بتائی ہے۔اس نے کہا کہ شریعت تو کامل نہیں ہے کیونکہ یہ تو فطرت کے خلاف ہے کہ مرد چار شادیاں کر ہے۔مغرب میں چار شادیوں پر بڑا اعتراض ہوتا ہے نا۔تو بہاء اللہ نے کہا ہے کہ ایک شادی کرو۔تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن بہاء اللہ نے خود تو دوشایاں کی ہوئی تھیں۔بعض کہتے ہیں تین شادیاں کی تھیں۔تو اس نے کہا کہ نہیں وہ تو دعوئی سے پہلے تھی۔تو حضرت خلیفہ ثانی نے کہا کہ اچھا خدا ہے جس کو یہ بھی نہیں پتا کہ میں نے دعوی کر کے کیا شریعت بنانی ہے اور پہلے ہی کر لیں۔پھر چلو وہ پہلے کر لی تھیں۔مگر اپنے بیٹے کی دوشادیاں کروائیں وہ کیوں کروائیں؟ اس نے اپنی ایرانی سہیلی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہاں اس طرح تھا۔دوشادیاں ہوئی تھیں۔کہتے ہیں میں نے اس سے کہا پھر اب بتاؤ۔تو وہ ایرانی کہتی کہ دوسری کو تو اس نے بہن بنالیا تھا۔حضرت مصلح موعوددؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے سوال کیا کہ اچھا بہن بنالیا تھا تو پھر اس سے اولاد کیوں پیدا ہوئی؟ کیا بہن سے اولاد پیدا ہوتی ہے؟ اس پر ساری مجلس نے جب اس کی طرف دیکھا تو بیچاری بہت شرمندہ ہوئی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد سوم صفحه 477 مطبوعه ربوہ) تو یہ تو ان کے دعوے ہوتے ہیں۔ہمیشہ یادرکھیں اور بچتے رہیں۔یہ بڑی خاموشی سے حملہ کرتے ہیں۔اور اپنی شریعت کو تو انہوں نے بتایا ہے کہ یہ شائع کی اور چھپا کے رکھی ہوئی ہے بلکہ حکم دیا ہے کہ اس کو ظاہر نہیں کرنا۔اللہ تعالیٰ نبیوں کے بارے میں تو یہ فرماتا ہے کہ جب وہ جھوٹا دعوی کریں اور میرے پر الزام لگا ئیں کہ میں نے بھیجا ہے، میرا کلام اترا ہے تو میں ان کو پکڑتا ہوں۔رگ جان سے پکڑ لیتا ہوں لیکن جو خدائی کا دعوی کرنے والے ہیں ان کے بارہ میں یہ نہیں فرمایا کہ میں ان کو پکڑوں گا اس دنیا میں تباہ کروں گا۔فرمایا کہ وَمَنْ يَّقُلُ مِنْهُمْ إِنِّى إِلَة مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِئُ الظَّالِمِينَ (الانبیاء: 30) کہ جو بھی ان میں سے یہ کہے کہ میں خدا کے سوا معبود ہوں تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے اور ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے خدائی کا دعوی کرنے والوں کے لئے یہ جز امر نے کے بعد رکھی ہے۔پس اللہ تعالیٰ جہاں سچے نبیوں کی تائید و نصرت فرماتا ہے۔ان کے لئے نشانات دکھاتا ہے۔جھوٹے نبیوں کو یا جھوٹے دعوے کرنے والوں کو پکڑتا ہے۔اس دنیا میں جھوٹے دعویداروں کو رسوا کرتا ہے۔وہاں مدعیان الوہیت ہیں یا جو خدا کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ان کے لئے اس کا فیصلہ مرنے کے بعد ہے۔جہنم کی آگ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی موحد ب موحد بننے اور اپنے بھیجے ہوئے فرستادہ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت اور فضل کی چادر میں ہمیشہ لپیٹے رکھے اور اپنا قرب حاصل کرنے والا بنا تا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 16 شمارہ نمبر 7 مورخہ 13 فروری تا 19 فروری 2009 صفحہ 5 تا صفحه 9)