خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 59

59 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دنیا میں دین کی اشاعت کے لئے بھیجتا ہے تو انہیں ہر قسم کی تسلی دلاتا ہے، ہر معاملے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔کہیں بھی مشکل آئے تو میں تمہاری مشکلات کو دور کرنے والا ہوں۔میں تمہارے لئے کافی ہوں۔ان کے دشمن جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا استہزا کرنا چاہتے ہیں یا استہزاء کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ان کے بارہ میں ان پیاروں کو یہ تسلی دلاتا ہے کہ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِئِینَ۔پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی اعلان فرماتا ہے کہ وَاللهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَائِكُمْ۔وَكَفَى بِاللهِ وَلِيًّا وَكَفَى بِاللهِ نَصِيرًا (النساء: 46 ) اور اللہ تمہارے دشمنوں کوسب سے زیادہ جانتا ہے اور اللہ دوست ہونے کے لحاظ سے بھی کافی ہے اور اللہ ہی کافی ہے بطور مددگار کے۔پس یہ اللہ تعالی کی ، زندہ خدا کی قدرتیں اور مدد اور تائیدات اور نشانات ہیں جو ہر لمحے اور ہر قدم پر ہمیں نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم حقیقت میں اس کا حق ادا کرنے والے رہیں تا کہ ہمیشہ ہمیں یہ تائیدات نظر آتی رہیں۔یہاں میں ایک اور بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں گزشتہ خطبہ میں بہاء اللہ کا ذکر ہوا تھا۔میں نے یہ کہا تھا کہ ایک نبوت کا دعویدارا ٹھا۔اصل میں تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ ایک دعویدار اٹھا اگر اس کا نبوت کا دعوی مانا جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس کے ساتھ نہیں تھیں۔یہ کہنا کہ بہائی لٹریچر میں یا بہائیوں میں یہ تصور نہیں ہے کہ وہ نبی تھا تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس کی اولاد میں سے ہی بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی تھا یا قطب تھایا ولی اللہ تھا اور خدائی کا دعوی اس نے نہیں کیا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہاء اللہ کی اپنی جو شریعت ہے جو شائع نہیں کی گئی، چھپی ہوئی ہے۔اس میں اس کے اپنے خدائی کے دعوئی کی باتیں نظر آتی ہیں۔اصل میں اس کا نبوت کا دعویٰ بے شک نہیں تھا لیکن کیونکہ ذکر یہ ہور ہا تھا کہ اگر نبوت کا دعوی بھی مان لیا جائے تب بھی اللہ تعالیٰ نے وہ تائیدات نہیں دکھا ئیں کیونکہ آج کل بعض جگہوں پر احمد یوں کو بھی بہائیوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے اور پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں لوگ جھوٹے ہیں۔تو اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہیں لیکن دوسری طرف بہائیوں کے ساتھ کوئی تائیدات نظر نہیں آتیں۔اور پھر یہ جو اس کا اصل لٹریچر ہے (اگر دھوکہ نہ دیا جائے تو ) اس میں جو اس نے کتاب لکھی۔اپنی شریعت جو اقدس کے نام سے بنائی اس میں تو اس نے اپنے آپ کو الوہیت کا یا خدائی کا دعویدار ہی بنایا۔اس لئے نبوت کی بات تو نہیں ہے لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں اور خود اس کے بعض ماننے والے بھی کہ نبی تھا تو تب بھی اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس کے ساتھ ہمیں نظر نہیں آر ہیں۔لیکن میں اس کے بارہ میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کیونکہ بعض لا علم لوگ ان کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔افریقہ میں بھی ، پاکستان میں بھی بعض لوگ ہیں۔بعض احمد یوں پر بھی بعض اوقات اثر پڑ جاتا ہے تو ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ بہاء اللہ کا اپنا دعوئی خدائی کا دعوی تھا نہ کہ نبوت کا۔اس کا جولٹریچر سامنے آیا ہے اس سے پتہ لگتا ہے اور جو اس کا خاص بیٹا تھا جس کو اس نے اپنا قائم مقام مقر ر کیا۔وہ بھی اس کو خدائی کا دعویدار ہی سمجھتا تھا ( خواہ دوسرے بیٹے نہیں بھی سمجھتے ہوں )۔بہر حال ان لوگوں کا ایک طریق کار ہے۔ایسے لوگوں کو جو لاعلم ہیں یا زیادہ صلح پسند قسم کے ہیں آہستہ آہستہ اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے