خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 39
39 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم گے۔انہیں اطمینان قلب بھی نصیب ہو گا، اُن کے اندر قناعت بھی پیدا ہو گی ، ان کے اندر نیکیاں کرنے کی خواہشات بھی پیدا ہوں گی۔یہاں جو یہ فرمایا کہ وہ جو چاہیں گے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر وقت دنیا کی فانی چیزوں کی خواہش کرتے ہیں اور وہ انہیں ملتی رہیں گی بلکہ پہلے تقویٰ کا ذکر کر کے یہ بتا دیا کہ وہ یہی چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو۔پھر اللہ تعالیٰ انہیں انعامات سے نوازے گا۔ان کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو جائیں گی اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نَحْنُ اَولِیؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ( حم السجدہ : 31) کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالی محسنین کو جزاء دیتا ہے۔حسن عمل کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔نیک اعمال بجالانے والوں کو جزا دیتا ہے۔ان لوگوں کو دنیا و آخرت کی جنت دیتا ہے جو مستقل مزاجی سے نیک اعمال کئے جاتے ہیں اور تقویٰ پر قائم ہوتے ہیں۔ایک وفا کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے۔اس کو اگلی آیت میں پھر مزید کھولا کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو ماننے کی وجہ سے، تقویٰ پر چلنے کی کوشش کی وجہ سے، اچھے اعمال بجالانے کی کوشش کی وجہ سے، ایسے اعمال جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ نہیں لیکن انسان سے بشری کمزوریوں کی وجہ سے سرزد ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ پھر ان کے بداثرات دُور فرمائے گا کیونکہ اس سے پہلے کوشش ہو رہی ہوگی ، نیت نیک ہوگی۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے کس قدر رحمت اور شفقت کو وسعت دیتا ہے اس کا اندازہ اسی بات سے ہو جاتا ہے۔کا ہو پھر فرمایا کہ غلطی اور گناہ کی سزا تو اس کے برابر ہے لیکن نیکی کا اجر دس گنا ہے۔پس سوائے اس کے کہ انسان ڈھٹائی سے گناہوں پر جرات پیدا کرتا چلا جائے۔نیکیوں کا ثواب اور اجر گناہوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے تمام بداثرات دور فرما دیتا ہے اور حسن عمل کا پھر انہیں اجر عطا فرماتا ہے۔وہ اس دنیا میں بھی نیکیوں کی طرف متوجہ رہ کر اپنی دنیا کو جنت بنانے والے بن جاتے ہیں اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی جنت کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کو مان کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان قلب پانا اور نیکیوں میں بڑھنا بھی ایک معیار ہے، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی سچائی کا۔اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی کثرت سے اس بات کے گواہ ہیں بلکہ جو نئے شامل ہونے والے ہیں ان کے اطمینان قلب میں بھی مزید اضافہ ہوتا ہے۔اس مضمون کے کئی خطوط میں روزانہ وصول کرتا ہوں۔پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ( الزمر: 37) کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔مزید تسلی دلائی۔پھر الزام لگانے والے الزام لگاتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے۔جس ظلم کا وہ اللہ