خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 523

523 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اوپر کی جو دس جماعتیں ہیں ان میں پہلے نمبر پر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔باوجود غربت کے ابھی تک انہوں نے اپنا پہلا اعزاز برقرار رکھا ہوا ہے۔دوسرے نمبر پر امریکہ ہے۔تیسرے پر جرمنی۔چوتھے پر برطانیہ۔پھر کینیڈا، انڈونیشیا، پھر ہندوستان، پھر آسٹریلیا پھر بیلجیئم پھر سوئٹزرلینڈ۔برطانیہ اور جرمنی کا ویسے تو تھوڑا سا ہی فرق ہے صرف 15 سو پاؤنڈ کا۔میرا خیال تھا کہ پچھلے سال تیسری پوزیشن تھی۔اب بھی شاید تیسری آ جائے لیکن جرمنی نے اس سال بڑی محنت کی ہے۔بہر حال اس کے علاوہ ماریشس، نائیجیریا، ناروے، فرانس، ہالینڈ، مڈل ایسٹ کی دو جماعتوں کی وصولی بھی کافی قابل ذکر ہے۔دنیا میں جو معاشی انحطاط پیدا ہورہا ہے اس کی وجہ سے دنیا کی ہر کرنسی جو ہے ڈسٹرب ہوگئی ہے۔کسی بھی کرنسی کو انڈیکس بنا کر اگر ہم لیں تو خاص طور پر غریب ممالک کی کرنسیاں بہت متاثر ہوئی ہیں۔بہر حال مقامی کرنسی کے لحاظ سے گزشتہ سال کے مقابلہ پہ یہ جائزہ میں نے اس لئے دے دیا ہے تا کہ ان کے جائزے بھی پتہ لگتے رہیں۔اس میں انڈیا نے اس دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلی پوزیشن لی ہے۔اس نے 42۔19 فیصد اضافہ کیا ہے۔قادیان انڈیا کی جو وکالت مال ہے اس کے وکیل المال صاحب نے لگتا ہے کافی محنت کی ہے۔اور اللہ کے فضل سے 42 فیصد سے زیادہ وصولی ہوئی ہے۔جرمنی نے جیسا کہ میں نے کہا کہ فرق تو تھوڑا ہے لیکن اس دفعہ انہوں نے بہت محنت کی ہے بڑا جمپ لیا ہے۔32۔8 فیصد انہوں نے گزشتہ سال کی نسبت اپنا اضافہ کیا ہے اور آسٹریلیا نے 18 فیصد اور برطانیہ نے 17 فیصد۔انہوں نے بھی زور تو بڑا لگایا تھا لیکن اب دیکھ لیں جرمنی کے مقابلے میں جو کوشش ہے وہ تقریباً نصف ہے، گو کہ جرمنی والوں کے امیر صاحب کو شکوہ ہے کہ ہمارے بہت سارے چندہ دینے والے مانگریٹ (Migrate) کر کے برطانیہ چلے گئے ہیں۔بیلجیئم 12۔2 فیصد ، سوئٹزر لینڈ تقریباً 9 فیصد۔اسی طرح پاکستان 9 فیصد ، پاکستان تو اپنے معیاروں کو چھو رہا ہے۔کینیڈا تقریباً 6۔2 ، امریکہ 3۔7۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر امریکہ نے 3۔7 حاصل کیا ہے تو انہوں نے اپنا معیار حاصل کر لیا ہے ابھی وہاں بہت گنجائش ہے۔اسی طرح انڈونیشیا میں صرف 2 فیصد اضافہ ہے۔ان میں بھی گنجائش ہے۔تحریک جدید میں نئے مجاہدین کو شامل کرنے کے لئے میں نے گزشتہ سال جماعتوں کو توجہ دلائی تھی۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ بچوں کو شامل کریں اور مرکز کی طرف سے بھی نئے مجاہدین کو شامل کرنے کے لئے ٹارگٹ دیئے گئے تھے۔جماعتوں نے ان ٹارکٹس کے حصول کے لئے امسال جو محنت کی ہے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے 90 ہزار افراد تحریک جدید کی قربانی میں شامل ہوئے ہیں۔یہ ٹوٹل نہیں بلکہ گزشتہ سال جتنے شامل ہوئے تھے ان میں 90 ہزار کا اضافہ ہوا ہے اور اب کل 5لاکھ 93 ہزار ہو گئے ہیں۔گزشتہ سال 5 لاکھ تھے۔ابھی بھی بہت گنجائش ہے۔جماعتیں کوشش کریں تو اضافہ ہو سکتا ہے۔شاملین میں اضافے کے لحاظ سے بھی انڈیا پہلے نمبر پہ ہے۔انہوں