خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 428

428 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 چڑھ جائیں۔لیکن کل ہی رات کو میں نے ٹی وی آن کیا خبریں دیکھتے ہوئے تو اس پہ خبر آ رہی تھی کہ ختم نبوت کے علماء کو جو انہوں نے خطاب کیا اس میں اب ان کی تسلی ہو گئی ہے۔ختم نبوت والوں کے جو تحفظات تھے ان کے اس بیان کے بعد وہ دور ہو گئے ہیں۔میں نے تفصیل تو نہیں دیکھی کہ کیا تحفظات تھے اور کیا تسلی ہوئی لیکن بہر حال لگتا ہے کہ بیان ان کا کچھ آیا جس سے مولوی خوش ہو گئے۔مولویوں کی حکومت کا تو یہ حال ہے کہ گزشتہ دنوں اخبار میں وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ یہ کام ہو جائے لیکن علماء سے مجھے ڈرلگتا ہے۔وزیر اعظم کی طاقت کا تو یہ حال ہے۔جہاں تک میری میٹنگ کا سوال ہے جیسا کہ میں نے کہا سنسنی پیدا کرنے کے لئے خبریں لگانے والے دن کو بھی خواہیں دیکھتے ہیں۔اگر کوئی میٹنگ ہوئی ہوتی تو جس طرح الطاف صاحب بیان دے رہے ہیں شاید یہ بھی بتا دیتے کہ میری میٹنگ ہوئی ہے۔ہاں یہ میں ضرور کہوں گا کہ اللہ کرے کہ جو بھی ملک کو بچانے کے لئے ان نفرتوں کی دیواروں کو گرانے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ اسے کامیاب کرے۔ہمیں تو ملک سے محبت ہے۔ہم نے اس کے بنانے میں بھی کردارادا کیا ہے اور اس کے قائم رکھنے کے لئے بھی ہر قربانی کریں گے اور کر رہے ہیں۔انشاء اللہ۔ہر احمدی کو دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ملک میں ایسے لیڈر پیدا کرے۔جہاں تک احمدیوں پر ظلموں کا سوال ہے اور اس کے توڑ کے لئے ہماری کوششیں ہیں تو یہ کہ ہم نے اپنے معاملات جو ہیں خدا تعالیٰ کے سپرد کئے ہیں۔اگر ہم راز و نیاز کرتے ہیں تو اپنے پیارے رب سے اور ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ احمدیت کے حق میں جو سکیم خدا تعالیٰ بنائے گا اور بنا رہا ہے اس کے سامنے تمام انسانی تدبیریں بیچ ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اور ضرور جماعت احمدیہ کے حق میں پاکستان میں اور تمام اسلامی ممالک میں وہ الہی تقدیر بڑی شان سے ظاہر ہوگی۔اور خود بخو د روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ حقیقی مسلمان کون ہے اور اسلام کا در درکھنے والا کون ہے۔پس میں احمدیوں سے، خاص طور پر جو پاکستانی احمدی ہیں چاہے وہ ملک میں رہ رہے ہیں یا ملک سے باہر ہیں کہوں گا کہ ملک کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے اور ملک کی سالمیت کو جو داؤ پر لگایا ہوا ہے اس سے ملک باہر نکلے۔اسی طرح دوسرے مسلمان ممالک ہیں۔عرب ممالک ہیں وہاں کے رہنے والے احمدیوں کو بھی رمضان کے ان دنوں میں جو گزر رہے ہیں اور خاص طور پر دعاؤں کی قبولیت کے دن ہیں، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے دن ہیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مبرم کے جلد نظارے ہمیں دکھائے۔اب میں واپس اسی آیت کے مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں نے تلاوت کی تھی۔مسلمان کی تعریف میں ذرا وقت لگ گیا لیکن یہ بیان کرنا بھی ضروری تھا۔