خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 389
خطبات مسرور جلد هفتم 389 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 ہوں۔اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے گئے سفر میں خدا تعالیٰ برکت بھی بہت ڈالتا ہے بشرطیکہ وہ تمام لوازمات بھی پورے کئے جارہے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا اور میں نے آپ کو بتایا ہے۔یہاں سے روانہ ہو کر ایک رات ہم بیلجیئم مشن ہاؤس میں بھی ٹھہرے تھے۔وہاں با قاعدہ مسجد تو نہیں ہے کیونکہ لوکل کونسل اس کی اجازت نہیں دیتی۔لیکن دو چھوٹے چھوٹے ہال ہیں جو مشن ہاؤس کے ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کے لئے نمازوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ہمارا یہ سنٹر برسلز کے قریب ایک قصبے میں ہے جس کا نام د لبیک (Dilbeek) ہے۔وہاں کے میٹر بھی اس دفعہ وقت لے کر مجھے ملنے آئے ہوئے تھے۔ان سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو چلتی رہی۔میں نے جب مسجد کا ذکر چھیڑا تو کہنے لگے میں ذاتی طور پر تو اجازت کے حق میں ہوں لیکن مقامی لوگ اور کونسل کے بہت سے اراکین جو ہیں، باوجود اس کے کہ وہ جماعت کو برا نہیں سمجھتے۔جماعت کے جو فنکشن وغیرہ ہوتے ہیں ان پر بھی آتے ہیں اور بلکہ جہاں بڑے پیمانے پر جماعتی فنکشنز ہوتے ہیں اور کافی ڈسٹر منیس (disturbance) بھی ہوتی ہے، ٹریفک بھی ہوتا ہے ، لوگ بھی آتے ہیں، نعرے بھی لگتے ہیں اس پر ان کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن وہ لوگ مسجد بنانے کے مخالف ہیں۔ان کو رام کرنے میں، ان کو منانے میں کچھ عرصہ لگے گا۔بہر حال ہمارے لئے تو اب وہاں مزید انتظار مشکل ہے۔اس لئے میں نے وہاں کی جماعت کو یہ ہدایت دی ہے کہ برسلز شہر میں مسجد کے لئے جگہ تلاش کریں تا کہ ہم بیلجیئم میں جلد ہی پہلی مسجد تعمیر کر سکیں۔انشاء اللہ۔اور امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جلد وہاں مسجد کی تعمیر کی صورتحال پیدا بھی ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ میری اس خواہش کو بھی پورا فرمائے کہ جو پہلی نیز (Phase) ہے اس میں ہم یورپ کے ہر ملک میں جہاں مسجد میں نہیں ہیں آئندہ پانچ چھ سالوں میں کم از کم ایک مسجد بنالیں۔پھر انشاء اللہ تعالیٰ جب ایک مسجد بن جائے گی تو ان میں اضافہ بھی ہوتا چلا جائے گا۔بیلجیئم کی مسجد کے لئے ان کی MP نے بھی جوممبر آف پارلیمنٹ ہیں جن کی اب ٹرم ختم ہونے والی ہے انہوں نے مدد کی حامی بھری ہے۔یہ جلسے پر یہاں بھی آئی تھیں اور سٹیج سے انہوں نے مختصر سا اپنا پیغام بھی دیا تھا اور جماعت سے بہت متاثر ہیں بلکہ میرے بیلجیئم پہنچنے سے پہلے مشن ہاؤس میں موجود تھیں کہ میں استقبال کرنے والے لوگوں میں شامل ہوں گی اور کافی دیر تک کھڑی رہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا اس لحاظ سے بھی سینہ کھولے کہ وہ احمدیت قبول کرنے کی طرف بھی قدم بڑھا ئیں۔ان ممبر پارلیمنٹ خاتون سے ملاقات تھی۔انہوں نے وہاں آئے ہوئے مراکن اور الجیرین جو ہیں ان میں تبلیغ کے لئے اور جماعت کا پیغام پہنچانے کے لئے بعض مشورے بھی دیئے اور ان کے مشورے بڑے اچھے تھے۔لگتا ہے دل سے تو احمدی ہو چکی ہیں ، صرف اظہار کرتے ہوئے ان کو ابھی خوف ہے۔