خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 364

364 خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا۔فرماتے ہیں ”خدا نے ایسے مخلص اور جان فشان ارادتمند ہماری خدمت میں لگا دیئے کہ جو اپنے مال کو اس راہ میں خرچ کرنا اپنی سعادت دیکھتے ہیں۔پھر آگے آپ نے اپنے چند مخلصین کا نام لے کے ذکر بھی فرمایا ہے جنہوں نے ہزاروں رو پیدا اسلام کی خاطر احمدیت کی ترقی کی خاطر دیا اور ماہوار بھی دیتے چلے گئے۔اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی تائید کا یہ نشان کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔مالی لحاظ سے بھی اور تعداد کے لحاظ سے بھی۔اور روحانی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے ترقی سب سے اہم چیز ہے جو ہونی چاہئے۔پھر آٹھواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت زیادہ کرنے کے لئے ظہور میں آیا کتاب ست بچن کی تالیف ہے۔اس کتاب کی تالیف کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے وہ سامان عطا کئے جو تین سو برس سے کسی کے خیال میں بھی نہیں آئے تھے“۔( یہ چولہ بابا نانک کے بارے میں ہے کہ وہ اتنا عرصہ محفوظ رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے یہ ظاہر ہوا کہ بابا نانک جو تھے وہ مسلمان ہوئے )۔آپ فرماتے ہیں میں اس کتاب میں باوانا تک صاحب کی نسبت ثابت کر چکا ہوں کہ باوا صاحب درحقیقت مسلمان تھے اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ آپ کا وردتھا۔آپ بڑے صالح آدمی تھے۔آپ نے دو مرتبہ حج بھی کیا۔اور اسی چولہ کو ایک زمانے میں غائب کر دیا گیا تھا لیکن اب پھر یہ ایک خاندان کے پاس محفوظ ہے۔ہمارے جلسے پر ایک سکھ مہمان بیدی صاحب آئے تھے۔انہوں نے اس کا ذکر بھی کیا تھا کہ ان کے خاندان کے پاس محفوظ ہے۔پھر ایک نشانی یہ ہے کہ نواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کے زیادہ ہونے کا موجب ہوا یہ ہے کہ اس عرصہ میں آٹھ ہزار کے قریب لوگوں نے میرے ہاتھ میں بیعت کی اور بعض قادیان پہنچ کر اور بعض نے بذریعہ خط تو بہ کا اقرار کیا۔پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کی تو بہ کا ذریعہجو مجھ کو ٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو خدا کی رضامندی کے بعد حاصل ہوتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقوی ترقی پذیر ہے"۔اور یہی چیز ہے جیسا کہ میں نے کہا صلاحیت اور تقویٰ کی ترقی جو ہے جماعت کو اس میں بڑھتے چلے جانا چاہئے۔صرف تعداد بڑھنا کافی نہیں ہے اس لئے ہمیں احمدیوں کو اپنی روحانی حالتوں کی طرف بھی توجہ دینے کی ہر وقت ضرورت ہے۔فرماتے ہیں۔میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدے میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔نا پاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں“۔پس یہ معیار ہیں جو آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سوں میں قائم بھی ہیں اور ہمیں قائم رکھنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔