خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 21
خطبات مسرور جلد ہفتم 21 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جنوری 2009 بھی تقریباً 80 ہزار کم ہے۔شاید ڈالر کی قدر میں کمی کی وجہ سے کم ہو گئے ہوں گے۔تو اب ان کے شامل ہونے والوں کی کل تعداد 8 ہزار 276 ہے۔یورپ اور امریکہ وغیرہ امیر ممالک کے وقف جدید کے یہ چندے انڈیا اور افریقہ کے ممالک میں مساجد مشن ہاؤس اور لٹریچر اور دوسری جماعتی اخراجات پر خرچ ہوتے ہیں۔اس لئے ان ملکوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ رقم کے لحاظ سے بھی اضافہ ہو اور تعداد کا جو اضافہ ہے یہ تو بہر حال ضروری ہے ہی۔میں نے ناصرات اور اطفال کو توجہ دلائی تھی ، میرے خیال میں یہ 256 کا جو اضافہ ہوا ہے یہ ناصرات اور اطفال کی کوشش ہے ، جماعت کی کوشش نہیں ہے۔بہر حال یہ خوش آئند چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئندہ آنے والی نسلوں میں یا چھوٹے بچوں میں مالی قربانی کی روح پیدا ہو رہی ہے۔تیسرے نمبر پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے برطانیہ ہے۔انہوں نے بھی (یعنی آپ نے جو سامنے بیٹھے ہوئے ہیں) اس سال 86 ہزار پاؤنڈ زیادہ ادا ئیگی کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے شامل ہونے والوں کی تعداد میں بھی 1382 کا اضافہ ہوا ہے اور کل چندہ دہندگان کی تعداد 14 ہزار 519 ہوگئی ہے۔ماشاء اللہ برطانیہ کی جماعت بھی اب آگے بڑھنے والوں میں شامل ہے اور تیزی سے آگے بڑھنے والوں میں شامل ہے۔یہ تعداد ایک تو جرمنی سے آنے والوں کی وجہ سے بڑھی ہے اور کچھ ناصرات اور اطفال کی وجہ سے بڑھی ہوگی۔کینیڈا جو ہمیشہ سے پانچویں نمبر پر رہا ہے اب چوتھے نمبر پر آ گیا ہے انہوں نے بھی ایک لاکھ 80 ہزار کی زائد وصولی کی ہے اور 378 نئے شامل کئے ہیں اور 13 ہزار 325 ان کی کل تعداد ہے۔ان کا جو دفتر اطفال ہے یعنی بچیاں اور بچے وہ اللہ کے فضل سے زیادہ فعال ہے۔جرمنی چوتھے سے پانچویں پوزیشن پر چلا گیا ہے۔گو 32 ہزار یورو کا اضافہ ہوا ہے لیکن چندہ دھندگان میں 1387 کی کمی ہے۔جو ان کے اور شعبہ مال کے خیال میں اس لئے ہے کہ ان میں سے بہت سارے لوگ جرمنی سے یہاں آگئے ہیں۔لیکن میرے خیال میں کچھ کوشش میں بھی کمی ہے۔چھٹے نمبر پر ہندوستان کی جماعتیں ہیں۔ان کی وصولی بھی اپنے لحاظ سے 17 لاکھ روپے پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے اور شاملین ایک لاکھ 16 ہزار 120 ہیں۔ہندوستان کو بھی اب میں کہتا ہوں کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں۔اس کے پیش نظر اب ہر جماعت کو خود اپنے آپ کو سنبھالنا چاہئے۔ابھی تک تو یورپ اور امریکہ سے مدد کی جاتی تھی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے کہ مدد نہ ہو سکے۔اسی طرح افریقن ممالک کو بھی خود اپنے آپ کو سنبھالنا چاہئے۔انڈونیشیا کا ساتواں نمبر ہے ان کا بھی 32 ہزار پاؤنڈ کا اضافہ ہے اور 829 افراد کا اضافہ ہے اس طرح پیجیم ، فرانس ، سوئٹزرلینڈ آٹھویں، نویں اور دسویں پوزیشن پر ہیں۔