خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 307
307 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 رہے ہیں اور کلام الہی کی تحریف و تبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدائے تعالیٰ کی ان چار تر تیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبیعی سے منکر ہو کر بیٹھے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ اگر چہ فقرہ وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اور فقره وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ بترتيب طبعی واقعہ ہیں لیکن فقر وإِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور فقرِهِ رَافِعُكَ إِلَيَّ ترتیب طبیعی پر واقعہ نہیں“۔( پہلے دو فقرے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمُطَهَرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اور پھر فرمایا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْق جو آخر میں فرمایا۔یہ تو فقرے کہتے ہیں ترتیب کے لحاظ سے ٹھیک ہیں۔لیکن مُتَوَفِّيكَ اور رَافِعُكَ إِلَيَّ یہ تو ترتیب صحیح نہیں ہے۔بلکہ در اصل فقر وإِنِّي مُتَوَفِّيكَ موخر اور فقره رَافِعُكَ إِلَيَّ مقدم ہے۔یعنی متوفیک بعد میں آنا چاہئے تھا یا ہے ان کے خیال میں اور رَافِعُكَ إِلَيَّ وہ پہلے ہونا چاہئے تھا اور ہے)۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ افسوس کہ ان لوگوں نے باوجود اس کے کہ کلام بلاغت نظام حضرت ذات اَحْسَنُ الْمُتَكَلِّمِين جل شانہ کو اپنی اصل وضع اور صورت اور ترتیب سے بدلا کر ( یعنی یہ جو کلام ہے بلاغت بلیغ کلام جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سب کلام کرنے والوں سے زیادہ خوبصورت کلام کرتا ہے اور جو بڑی شان والا ہے۔اس کے بارہ میں فرماتے ہیں ) کہ اس کو اپنی اصل وضع اور صورت اور ترتیب سے بدلا کر مسخ کر دیا۔ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو تو مسخ کر دیا) اور چار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی کو مسلم رکھا اور دو فقروں کو دائرہ بلاغت اور فصاحت سے ( خارج کر دیا۔دو کے بارہ میں تو کہہ دیا کہ بڑی ٹھیک ٹھاک ہے ترتیب ان کی۔اور جہاں چونکہ اپنی دلیل نہیں بنتی تھی اس لئے ان کی ترتیب بدل دی۔) خارج سمجھ کر اپنی طرف سے ان کی اصلاح کی۔یعنی مقدم کو موخر کیا اور موخر کو مقدم کیا۔( جو پہلے تھا اس کو بعد میں کر دیا اور جو بعد میں تھا اس کو پہلے کر دیا ) د مگر با وجود اس قدر یہودیانہ تحریف کے پھر بھی کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ فقرہ اِنِّی رَافِعُكَ إِلَيَّ فقر واني مُتَوَقِيكَ پر مقدم سمجھنا چاہئے۔تو پھر بھی اس سے محرفین کا مطلب نہیں نکلتا۔کیونکہ اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گا کہ اے عیسی میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور وفات دینے والا ہوں اور یہ معنی سرا سر غلط ہیں۔کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی کی آسمان پر ہی وفات ہو۔وجہ یہ ہے کہ جب رفع کے بعد وفات دینے کا ذکر ہے اور نزول کا درمیان میں کہیں ذکر نہیں۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آسمان پر ہی حضرت عیسی وفات پائیں گے ہاں اگر ایک تیسرا فقرہ اپنی طرف سے گھڑا جائے اور ان دونوں فقروں کے بیچ میں رکھا جائے اور یوں کہا جائے کہ يَا عِیسَی إِنِّي رَافِعُكَ وَمُنَزِّلُكَ وَمُتَوَفِّيكَ تو پھر معنی درست ہو جائیں گے۔مگر ان تمام تحریفات کے بعد فقرات مذکورہ بالا خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں رہیں گے بلکہ باعث دخل انسان ( جو انسان نے اس میں دخل دیا ہے اس کی وجہ سے ) اور صریح تغیر و تبدیل و تحریف کے اسی محرف کا کلام متصور ہوں گے جس نے بے حیائی اور شوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے اور کچھ شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہوگی“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 609-606)