خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 292
292 خطبہ جمعہ فرموده 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم عبادتوں کے معیار قائم کرتے ہوئے۔اس کے اثرات اور نیک نتائج پیدا کرتی ہیں اور معاشرے کی ان خطوط کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جو اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔پس یہ چیز ہے جو ہر احمدی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ورنہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کرنا آپ کو مسیح موعود مان لینا تو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔بلندیوں کا حصول اس تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کی وجہ سے ہوگا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں اور ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے اور نماز کو ایک بنیادی رکن سمجھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی بار بار تاکید فرمائی ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی بلکہ ایک دفعہ ایک قوم مسلمان ہوئی اور اپنی کا روباری مصروفیات کی وجہ سے کام کا عذر کرتے ہوئے یہ درخواست کی کہ ہمیں نماز معاف کر دی جائے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یا درکھو کہ جس مذہب میں خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی نہیں۔اللهم ( کشف الغمه عن جميع الامة جزء ثانی صفحہ 240 دار الكتب العلمیة بیروت طبع اولی 1998) ( السيرة النبوية لابن ہشام باب امر وفد ثقیف و اسلامها صفحہ 829 دارالکتب العلمیة بیروت 2001) تو یہ اہمیت تو ہے نماز کی۔ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے، چاہے وہ نماز پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا۔لیکن مسلمانوں کو اور ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نماز پڑھنی کس طرح ہے؟ جیسا کہ میں نے ایک غیر از جماعت دوست کی بات کا حوالہ دیا تھا کہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں اس کے باوجود ہمیں نہیں پتہ کہ معاملات کیوں صاف نہیں ہیں؟ کیونکہ ایک بہت بڑا طبقہ ان میں بھی ایسا ہے جو با وجود عبادت کو ایک اہم دینی فریضہ سمجھنے کے بدقسمتی سے اس کے جو اثرات ہیں وہ نہیں اس پر پڑتے اس لئے کہ حقیقی رنگ میں عبادت ادا نہیں کی جاتی۔بہت سے جو ہیں وہ صرف دکھاوے کے لئے ادا کر رہے ہوتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جو کوشش کرتے ہیں کہ تو جہ سے نماز ادا کریں لیکن وہ بھی نمازوں کی روح اور اس کی گہرائی کو نہیں سمجھتے۔کیونکہ جس روحانی چشمہ کو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے یہ فہم و ادراک عطا کرنے کے لئے جاری فرمایا تھا، اس کے فیض سے ان کے نام نہاد علماء نے انتہائی خوفزدہ کر کے دور رکھا ہوا ہے۔اور آج ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اس زمانہ کے اس روحانی چشمہ سے فیض اٹھا ر ہے ہیں۔جس کا منبع آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ملے ہیں اور اب دنیا کی روحانی حالت کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہی چنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عبادتوں کے معیار حاصل کرنے کے لئے کس طرح راہنمائی فرمائی ہے؟ اور ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ چند باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔” بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکان اسلام بھی بجالاتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کی نصرت اور مردان کے شامل حال نہیں ہوتی اور ان کے اخلاق اور