خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 286
286 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم والے تھے جیسا کہ میں نے حدیث سے بتایا تھا۔کہ ظہر کی چار سنتیں اس لئے با قاعدگی سے پڑھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں، اپنا رفع کرنے والے بنیں۔اسی طرح یہاں یہ بھی بیان ہوا کہ وہ زکوۃ دے کر دین کی ضرورتیں پوری کرنے والے تھے اور حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والے بھی تھے۔پس یہ نمونے اس مجسم ٹور سے منسوب ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے تھے جو آج تک ہمارے لئے مثال ہیں۔آج بھی ان نمونوں کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔جس طرح اولین نے یہ قائم کئے تھے آج کل تجارت اور بیع کی طرف اس زمانہ میں کچھ زیادہ ہے اس لئے عبادتوں کی طرف کوشش بھی زیادہ کرنی چاہئے اور توجہ زیادہ دینی چاہئے۔تجارت اور بیع کا فرق کیا ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے کہ تجارت تو خرید فروخت ہے۔لینا اور دینا۔خریدنا اور بیچنا۔لیکن بیچ صرف فروخت ہے (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 333) اور آج کل کے زمانے میں اگر دیکھیں تو یہ سروسز جو ہیں یہ صرف بیج میں شمار ہوتی ہیں اور اس ملک میں یہ سب سے زیادہ ہیں یہ بھی نمازوں کی ادائیگی سے روکتی ہیں۔وہ اپنے کام کو وقت پر ختم کرنے کی کوشش میں اپنے فرائض کو اور جو اصل ذمہ داری ہے اس کو لوگ بھول جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو حقیقی مومن ہیں ان کو دنیا میں مصروف رہنے کے باوجود آخرت کا خوف رہتا ہے اور ان کی تجارتیں اور ان کے دوسرے کام انہیں خدا تعالیٰ کی عبادت اور حقوق العباد کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتے۔بلکہ ہر وقت ان کے سامنے وہ نظارہ رہتا ہے کہ جہاں مرنے کے بعد جواب دینا ہو گا۔وہ فرض عبادتوں کی ادائیگی کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اس طرف ان کی توجہ ہوتی ہے اور نوافل کی ادائیگی کی طرف بھی ان کی توجہ ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آخر میں لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمُ مِنْ فَضْلِهِ ، وَاللهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (النور: 39) تاکہ اللہ انہیں ان کے بہتر اعمال کے مطابق جزا دے جو وہ کرتے رہے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں مزید بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔پس وہ نور جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ذات میں پیدا فرمایا اور جو کامل تعلیم آپ پر اُتاری وہ مومنوں کے گھروں کو بھی بلند کرنے کا باعث بنی۔اور یہ ایک ایسا جاری سلسلہ ہے جو ہمیشہ اس پر عمل کرنے سے جاری رہے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا اس آیت میں بھی اور بعض دوسری آیات میں بھی وعدہ ہے۔فرماتا ہے کہ ان اعمال صالحہ کو اپنے گھروں میں رائج کرنے سے، اپنے دلوں میں بٹھاتے ہوئے ان پر عمل کرنے سے تم ان کی بہترین جزا پاؤ گے۔بلکہ صرف اتناہی نہیں اللہ تعالیٰ دیتا جتنا عمل کیا گیا ہے فرمایا کہ اپنے فضل سے مزید دے گا تمہیں۔تم ایک قدم اوپر