خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد هفتم 68 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 2009 پوری شان سے زمین اور آسمان نے تائید کی ہے اسے قبول نہیں کرنا چاہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس کی رو سے کہ سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بہت سوں کی سلیم فطرت یا سعید فطرت نہیں ہے۔جب یہ لوگ سلیم فطرت نہیں ہیں، مانا نہیں چاہتے تو کیا ان کو خوش کرنے کے لئے ، ان کی خاطر، ہم بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے کی توفیق دی اس دعوی کا انکار کر دیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خطبہ الہامیہ میں ایک جگہ وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: خدا کی قسم قرآن شریف میں جو تمام اختلافوں کا فیصلہ کرنے والا ہے، کہیں ذکر نہیں ہے کہ خاتم الخلفاء سلسلہ محمدیہ کا موسوی سلسلے سے آئے گا۔اس کی پیروی مت کرو کہ کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں ہے بلکہ برخلاف اس کے تم کو دلیل دی گئی ہے۔اور کلمات متفرقہ اپنے منہ سے نہ نکالو کہ وہ کلمات اس تیر کی طرح ہیں جو اندھیرے میں چلایا جائے اور یہ وعدہ جو مذکور ہوا سچا وعدہ ہے اور تم کو کوئی دھوکہ نہ دے۔اور سورۃ فاتحہ میں دوسری بار اس وعدہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہ آیت سورة فاتحہ یعنی صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اپنی نمازوں میں پڑھتے ہو پھر حیلہ و بہانہ اختیار کرتے ہو اور حجت الہی کے رفع دفع کے لئے مشورے کرتے ہو۔تمہیں کیا ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ کو اپنے پیروں میں روندتے ہو؟ کیا ایک دن تم نہیں مرو گے یا کوئی تم کو نہیں پوچھے گا؟۔“ خطبہ الہامیہ صفحہ 63-64 - روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 109-110) یہ تو بیان غیروں کے لئے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کشتی نوح میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی ایک خوبصورت تفسیر کرتے ہوئے یہ ثابت فرماتے ہیں کہ اس آیت میں محمدی سلسلے سے ہی مسیح و مہدی کے آنے کی پیشگوئی ثابت ہوتی ہے۔فرماتے ہیں کہ: نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد ہے اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا۔جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ (14)