خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 57

خطبات مسرور جلد ہفتم 57 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 سے اس کو بچاتا ہے۔اگر بد قسمتی نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ ایک معجزہ تھا کہ ان کے ہر ایک حملے کے وقت خدا نے مجھے کو ان کے شر سے بچایا اور نہ صرف بچایا بلکہ پہلے سے خبر بھی دے دی کہ وہ بچائے گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 125) پھر آپ فرماتے ہیں: ”یہ عجیب بات ہے کیا کوئی اس بھید کو سمجھ سکتا ہے کہ ان لوگوں کے خیال میں کا ذب اور مفتری اور دجال تو میں ٹھہر امگر مباہلے کے وقت میں یہی لوگ مرتے ہیں۔کیا نعوذ باللہ خدا سے بھی کوئی غلط نہی ہو جاتی ہے۔؟ ایسے نیک لوگوں پر کیوں یہ قہر الہی نازل ہے جو موت بھی ہوتی ہے پھر ذلت اور رسوائی بھی“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 238) آپ نے فرمایا کہ ہر چند مولویوں کی طرف سے روکیں ہوئیں اور انہوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ رجوع خلائق نہ ہو یہاں تک کہ ملکہ تک سے بھی فتوے منگوائے گئے اور قریباً 200 مولویوں نے میرے پر کفر کے فتوے دیئے بلکہ واجب القتل ہونے کے بھی فتوے شائع کئے گئے لیکن وہ اپنی تمام کوششوں میں نامرادر ہے۔اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو کچھ بھی ضرورت نہ تھی کہ تم مخالفت کرتے اور میرے ہلاک کرنے کے لئے اس قدر تکلیف اٹھاتے بلکہ میرے مارنے کے لئے خدا ہی کافی تھا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 262 263 آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر، کفایت پر اس قدر یقین تھا جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو ہوتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو بھی اس انتہا تک ہو سکتا ہے کہ کہیں بھی آپ کو شائبہ تک بھی نہیں۔ذہن میں خیال تک نہیں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ میری فلاں معاملے میں مدد نہیں کرے گا۔ہاں دعا ضروری ہے۔دعا کی طرف توجہ ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” ایک عرب کی طرف سے ایک خط آیا کہ اگر آپ ایک ہزار روپے مجھے بھیج کر اپنا وکیل یہاں مقرر کر دیویں تو میں آپ کے مشن کی اشاعت کروں گا۔( کہ مجھے پیسے بھیجیں اپنا نمائندہ یہاں مقرر کر دیں مشن کی اشاعت کروں گا )۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کو لکھ دو ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں۔ایک ہی ہمارا وکیل ہے جو عرصہ بائیس سال سے اشاعت کر رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی اور کی کیا ضرورت ہے اور اس نے کہہ بھی رکھا ہے کہ اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ 66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 46 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں: ” بعض ہمارے معزز دوستوں نے جو دین کی محبت میں مثل عاشق زار پائے جاتے ہیں۔بمقتضائے بشریت کے ہم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس صورت میں لوگوں کا یہ حال ہے تو اتنی بڑی کتاب تالیف کرنا کہ جس کی چھپوائی پر ہزار ہا روپیہ خرچ آتا ہے بے موقع تھا۔سو ان کی خدمت والا میں یہ عرض ہے کہ اگر ہم ان