خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 36

36 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِايْتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ (يونس: 18) پس جو اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھے یا اس کے نشانات کو جھٹلائے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا۔یقیناً مجرم کا میاب نہیں ہو سکتے۔دونوں طرح کے مجرم کا میاب نہیں ہوں گے۔نہ وہ کامیاب ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتے ہوئے یہ کہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔نہ وہ کامیاب ہو سکتے ہیں جو ایک سچے نبی کا انکار کرنے والے ہوں۔پس اس سے بھی ظاہر ہے کہ دو قسم کے لوگ ہیں جو سزا سے نہیں بچ سکتے۔جیسا کہ میں نے کہا ایک وہ جو غلط دعویٰ کر کے اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور دوسرے وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام لانے والے کا مقابلہ کریں اور یہ ایسی بات ہے جو ہر عقل رکھنے والا مجھ سکتا ہے۔تبھی تو فرعون کی قوم کے ایک آدمی نے کہا تھا که وَإِنْ يَكُ كَاذِبَاً فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقاً يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمُ (المومن: 29) کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا۔اگر وہ سچا ہے تو اس کی کی ہوئی بعض انذاری پیشگوئیاں تمہارے متعلق پوری ہو جائیں گی۔پس ان مسلمانوں کے لئے بھی جو آنحضرت علی کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح موعود کو نہیں مانتے غور کرنے کا مقام ہے۔مسلمانوں کے پاس تو ایک ایسی جامع اور محفوظ کتاب ہے جس کی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور غیر بھی باوجود کوشش کے اس میں کسی قسم کی تحریف تلاش نہیں کر سکے۔چودہ سو سال سے وہ اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جمع کر کے مسلمانوں کو ہوشیار کیا ہے کہ یہ قصے کہانیاں نہیں تمہاری حالت بھی پہلی قوموں جیسی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ (يونس: 18) که مجرم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے تسلی دلا دی ہے کہ بے شک جھوٹے دعویدار ہو سکتے ہیں لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔اور کامیابی کا معیار کیا ہے؟ یہ ہے کہ اپنی تعلیم اور بعثت کے مقصد کو وہ دنیا میں پھیلا نہیں سکتے جس طرح خدا تعالی کی طرف سے آنے والے پھیلاتے ہیں۔بے شک ان کی چھوٹی سی جماعت بھی بن سکتی ہے۔ان کے پاس دولت بھی جمع ہو سکتی ہے۔یہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دعویدار ہو کر آتا ہے وہ ایک روحانی مقصد کو لے کر آتا ہے۔انبیاء آئے تو وہ یا نئی شریعت لے کر آئے تا کہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کریں اور انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کریں یا پرانی تعلیم کی تجدید کے لئے آئے تا کہ بھٹکے ہوں کو پھر سے اس تعلیم کے مطابق جو شرعی نبی لائے تھے خدا تعالیٰ کے قریب کریں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کا بنیادی معیار ہے۔اگر کوئی دعوی کرتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے لیکن یہ دو مقصد حاصل نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ پر افتراء باندھ رہا ہے۔اگر وہ لوگوں میں