خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 410
خطبات مسرور جلد ہفتم 410 خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 احمدیت کا کام یا حوالے نکالنے، تلاش کرنے ، لکھنے، نوٹس بنانے وغیرہ کا کام کیا کرتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب طریقہ سے ساری تاریخ لکھی۔لوگ دنیا داری کے لئے تو بعض دفعہ ایسا کرتے ہیں کہ اپنا و یک اینڈ (Weekend) استعمال کر لیتے ہیں، چھٹی پہ بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔بچے کہتے ہیں کہ ہمیں مہینوں یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ کس وقت ہمارے والد گھر آئے اور کس وقت گھر سے چلے گئے۔جب وہ صبح صبح اٹھ کے چلے جاتے تھے تب بھی ہم سوئے ہوتے تھے اور جب گھر واپس آتے تھے تب بھی ہم سوئے ہوتے تھے۔یہ واقفین زندگی اور مبلغین کے لئے بھی ایک تاریخی نصیحت بھی ہے۔کہتے ہیں کہ 1965ء میں خلافت ثالثہ کے تاریخ ساز عہد کا پہلا جمعہ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو بلایا اور فرمایا کہ جمعہ کو چھٹی تو ہوتی ہے لیکن میں نے تمہیں تکلیف دی ہے تو میں نے کہا بڑی خوشی کی بات ہے۔پھر حضرت خلیفہ اسح الثالث نے فرمایا کہ تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ جب میں نے (حضرت خلیفہ اسیح الثالث کہتے ہیں کہ ) وقف زندگی کا فارم پر کیا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ آج تم نے میرے دل کی پوشیدہ خواہش کو پورا کر دیا ہے۔میں چاہتا تھا کہ تم میری تحریک کے بغیر خود ہی تحریک جدید کے روحانی مجاہدوں میں شامل ہو جاؤ۔آج میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں مگر یاد رکھو اب تم نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے اب مرنے سے پہلے تمہارے لئے کوئی چھٹی نہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے یہ عرض کی کہ حضور میں بھی یہ عہد کرتا ہوں کہ ایک واقف زندگی کی حیثیت سے ہمیشہ دن رات خدمت دین میں مشغول رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے آخری وقت تک اس عہد کو نبھایا ہے۔جب ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں تو بڑے شدید بیمار تھے اور جب بھی ذرا کمزوری دور ہوئی تو جب تک ان کو ہوش رہی ہے ( آخری دو چار دن تو بیہوشی کی ہی کیفیت تھی ) تو بے چین ہو کر کہا کرتے تھے کہ مجھے ہسپتال سے جلدی فارغ کرو۔میں نے دفتر جانا ہے کیونکہ مجھے خلیفہ اُسیح نے بعض کام سپرد کئے ہوئے ہیں جو میں نے فوری انجام دینے ہیں۔تو انہوں نے آخر دم تک اس عہد کو نبھایا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرتا جائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ان کے جو بیٹے ڈاکٹر سلطان مبشر ہیں وہ بھی واقف زندگی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی حقیقی رنگ میں وقف نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔میں جمعہ کے بعد ان کا جنازہ غائب ادا کروں گا۔اس کے ساتھ ہی دو اور جنازے بھی ہیں۔ایک تو مولوی صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں جو سات سال آپ سے چھوٹے تھے۔ان کی وفات مولوی صاحب کے ایک گھنٹے بعد ہوئی ہے اور وہ موصی تھے۔اُن کی اولاد تو کوئی نہیں تھی۔بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے ہیں۔ان کو مالی قربانیوں کا موقع ملا