خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 26

26 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ایمان رکھتا ہے اور مومن بھی ایمان رکھتے ہیں اور یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا حکم سن لیا اور ہم دل سے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ان کی یہ دعا ہے کہ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اور تیری طرف ہی ہمیں لوٹنا ہے۔اور دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر اس کی طاقت سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔جو اس نے اچھا کام کیا وہ اس کے لئے نفع مند ہوگا اور جو اس نے برا کام کیا ہو گا وہ اس پر وبال بن کر پڑے گا۔اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا کوئی غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دینا اور اے ہمارے رب! ہم پر اس طرح ذمہ داری نہ ڈال جس طرح تو نے ان لوگوں پر ڈالی تھی جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔اسی طرح اے ہمارے رب ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ہم سے درگزر کر ہمیں بخش دے ہم پر رحم کرے تو ہمارا مولا ہے پس کافروں کے گروہ کے خلاف ہماری مددکر۔تو جیسا کہ اس ترجمہ سے واضح ہو گیا کہ کیوں آنحضرت ﷺ نے یہ آیات رات کو پڑھنے کو کافی قرار دیا۔پہلی آیت میں تزکیہ نفس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ۔اس کے فرشتوں پر ایمان لاؤ۔اس کی کتابوں پر ایمان رکھو اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔کیونکہ یہ ایمان میں کامل ہونے کا ذریعہ ہیں اور یہ ایمان صرف زبانی اقرار نہیں ہے بلکہ عقیدے کے لحاظ سے بھی اور عمل کے لحاظ سے بھی ضروری ہے اور یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب تقویٰ میں ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہوں۔اس کے فرشتوں پر ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی ذمہ داریاں متروک نہیں ہو گئیں۔بلکہ آج بھی وہ اپنے مفوضہ فرائض ادا کر رہے ہیں۔اسی طرح پہلے انبیاء پر جو کتابیں اتریں وہ بھی یقینا خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں۔لیکن یہ اور بات ہے کہ زمانے نے ان میں بگاڑ پیدا کر دیا۔لیکن بہر حال وہ کتابیں ان رسولوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتری ہوئی کتا بیں تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان کتابوں کی بھی ہر اچھی تعلیم قرآن کریم میں محفوظ کر کے پہلی کتب کی تصدیق بھی کر دی اور قرآن کریم کی حفاظت کی ضمانت دے کر آئندہ کے لئے اس شرعی کتاب کے تاقیامت ہر قسم کی تحریف سے پاک رہنے کا اعلان بھی فرما دیا اور پھر تمام رسولوں پر ایمان کی طرف اس میں توجہ دلائی ہے۔یہ اسلام کی خوبی ہے کہ تمام رسولوں کو مانے کا حکم ہے۔یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تمام سابقہ رسولوں کو مانو بلکہ رسولوں پر ایمان ہے اور قرآن کریم اور آنحضرت علی نے مسیح موعود کے آنے کا بتایا اور جو راستہ کھول دیا تو یہ راستہ کھول کر آئندہ آنے والے رسولوں کو ماننے اور ایمان لانے کا بھی اس میں حکم فرما دیا۔اب یہ ان نام نہاد مسلمان علماء کی بد قسمتی ہے جنہوں نے نہیں مانا کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق مبعوث ہونے والے انبیاء کی بعثت کے طریق کو چھوڑ کر اس طریق پر مسیح موعود کے نازل ہونے کا