خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 185
خطبات مسرور جلد ہفتم 185 خطبہ جمعہ فرموده 17 اپریل 2009 آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب ذات نور ملا نور پیمبر سے ہمیں سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے پس آج خدا تعالیٰ کا کلام کہ وَ هُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَار انہیں پر پورا ہوتا ہے جو اپنے دلوں کو پاک کرتے ہوئے حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کو پانا چاہتے ہیں اور وہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آئے ہوئے زمانے کے امام کو قبول کرتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ اپنے وجود کے ہر روز نئے رنگ میں جلوے دکھاتا ہے اور انہیں دیکھ کر پھر حقیقی تو حید کی پہچان بندے کو ہوتی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آنحضرت نے کی غلامی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے آپ کا وجو دل گیا اور جب وجو دمل گیا تو آپ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بن گئے اور آنحضرت مے کی غلامی کی وجہ سے آپ بھی کچی تو حید کی پہچان کروانے والے بن گئے۔اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں : ” خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے۔“ ( بہت چھپی ہوئی۔بہت دور ہے )۔اور کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَارَ - یعنی بصارتیں اور بصیر تیں اس کو پا نہیں سکتیں اور وہ ان کے انتہا کو جانتا ہے اور ان پر غالب ہے۔پس اس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے۔کیونکہ تو حید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی بتوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پر ہیز کرے۔یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور ان کے ذریعہ سے عجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہو سکتی۔اور جو شخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحد کہلا سکتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحه 147-148) پس یہ ہے اللہ تعالی کی روشنی حاصل کرنے اور خالص تو حید قائم کرنے کے لئے ایک بندے کی کوشش کہ پہلے اپنے اندر کے جھوٹے معبودوں کو باہر نکالے۔کسی کو یہ زعم ہو کہ میں دولت رکھتا ہوں، میں قوم کا لیڈر ہوں اور مسلمان بھی ہوں اس لئے خدا تعالیٰ کو پا لیا، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تو یہ غلط ہے۔اگر کسی کو یہ زعم ہے کہ میں دینی علم رکھنے والا ہوں ، روحانیت میں میں بڑا پہنچا ہوا ہوں اور ایک قوم میرے پیچھے ہے اور اس وجہ سے مجھے خدا تعالیٰ کا فہم و ادراک حاصل ہو گیا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔کیونکہ ان سب باتوں کے پیچھے ایک چھپا ہوا تکبر ہے جس کی وجہ سے کوئی