خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 183
183 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 اپریل 2009 اللطیف کے ایک معنے یہ کئے گئے ہیں کہ جو تھوڑی سی دی ہوئی قربانی کو قبول کرتا ہے مگر بدلہ عظیم الشان دیتا ہے۔ایک معنی یہ کئے گئے ہیں کہ لطیف وہ ہے جو اس شخص کے کام سنوارے جس کے سب کام ٹوٹ اور بکھر گئے ہوں اور جو تنگ دست کو خوشحالی عطا کرتا ہے۔پھر اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ لطیف وہ ہے جو نا فرمانی کرنے والے کی گرفت کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور جو کوئی اس سے امید رکھتا ہے وہ اسے نامراد نہیں رکھتا۔بعض نے لطیف کے یہ معنے کئے ہیں کہ وہ جو عارفوں کے اندرونوں میں اپنی ذات کے مشاہدے کے ذریعہ ایک چراغ جلا دیتا ہے اور صراط مستقیم کو ان کا منہاج بنا دیتا ہے اور اپنے نیک سلوک کے موسلا دھار برستے ہوئے بادلوں سے انہیں وسیع انعام عطا کرتا ہے۔تفسیر قرطبی نے لکھا ہے کہ خطابی کہتے ہیں کہ لطیف بندوں سے حسن سلوک کرنے والے اس وجود کو کہتے ہیں جوان کے ساتھ ایسے پہلوؤں سے جن کو وہ بندے جانتے ہیں لطف و احسان کا معاملہ کرتا ہے اور ان کے لئے ان کی خیر خواہی کے اسباب ایسی ایسی جگہوں سے پیدا کرتا ہے جس کا وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔بعض علماء کے نزدیک اللطيف وہ ہے جو معاملات کی باریکیوں کو بھی خوب جانتا ہے۔اس کے ایک معنی بڑے واضح ہیں کہ باریک بینی سے دیکھنے والا۔ان ساری باتوں کا جو خلاصہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ اپنی اس صفت کے تحت ہدایت کے نور سے خود منور کرتا ہے۔پھر نمبر 2 یہ کہ وہ اپنی صفت لطیف کے تحت ہماری جسمانی اور روحانی نشو و نما اور پرورش کے سامان کرتا ہے۔پھر یہ کہ وہ اپنی صفت کے تحت ہماری آزمائش کے وقت ہما را دوست اور ولی ہوتا ہے۔پھر یہ کہ وہ جہنم سے بچاؤ کے طریق ہمیں سکھاتا ہے۔نمبر 5 یہ کہ وہ تکالیف کے وقت ہماری حفاظت فرماتا ہے۔پھر یہ کہ وہ اپنی صفت لطیف کے تحت ہماری پردہ پوشی فرماتا ہے۔پھر وہ اپنی اس صفت کے تحت ہماری تھوڑی سی قربانیوں کا بہت بڑا اور عظیم اجر دیتا ہے۔اور پھر اپنی صفت لطیف کی وجہ سے انسان کو سزا دینے اور پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔اور اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ اس صفت کے تحت بڑی باریک بینی اور گہرائی سے ہر معاملے پر نظر رکھنے والا ہے۔اور یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے صفت لطیف کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے۔قرآن کریم میں سورہ انعام کی آیت 104 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَيُدْرِكُ | الابْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ کہ آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے اور وہ بہت باریک بین اور ہمیشہ باخبر رہنے والا ہے۔