خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 167
167 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد هفتم کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مَرحَمَہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم 40 دن اس کے لئے روروکر دعا کی ہو۔فرمایا ”تمہیں چاہئے کہ تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللهِ بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کرتا تھا دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے تو راہ دوزخ کی اختیار کی کہ تمہارے سے ) حسد کیا اور تو نے (اس کی) غیبت کی۔اس کا راز مجھے بتایا کہ یہ غیبت تھی، یہ برائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم، دعا ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 60-61- جدید ایڈیشن - مطبوعہ ربوہ ) یہ چیزیں ہمیں جماعت میں پیدا کرنی چاہئیں اور جوں جوں جماعت بڑھ رہی ہے اس کے لئے خاص کوشش بھی کرنی چاہئے ، نہ یہ کہ جھگڑوں کو زیادہ بڑھایا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہ پر بار بار جماعت کو دعا اور ستاری کے بارہ میں نصیحت فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی صفت ستاری سے ہمیشہ حصہ لیتے رہنے والے بنے رہیں۔اللہ تعالیٰ فضل فرماتے ہوئے ہمارے دلوں میں تمام برائیوں سے نفرت پیدا کر دے اور ہمیشہ ہم نیکیوں کی طرف قدم مارنے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا جو مقصد ہے اس کو پورا کرنے والے بنیں۔آمین الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شمارہ 16 مورخہ 17 اپریل تا 23 ، اپریل 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 8