خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 126

126 خطبه جمعه فرمودہ 6 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اور جب انسان خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے تو اس کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت بھی نصیب ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی معرفت ملتی ہے تو پھر اس کی کامل اطاعت کی طرف ہمیشہ نظر رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے محبت کا حقیقی عرفان ملتا ہے۔ہر قسم کے شرک سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ ہونے کا صحیح علم حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر و حو صلے سے ہر قسم کے ابتلاؤں اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ پر تو کل پیدا ہوتا ہے۔تمام قسم کے اعلیٰ اخلاق بجالانے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔غرض کہ صدق کے اعلیٰ نمونے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ہر وقت، ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد سے راہنمائی کرتے ہیں۔پس یہ خلاصہ اس جماعت کی غرض اور مقصد ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ صادقوں کی جماعت تیار کر رہا ہے۔اگر ہم اس معیار کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے لیں تو ایک خوف کی صورت نظر آتی ہے۔پس ایسی صورت میں پھر ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہوئے اس کے حضور جھکنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ ان راستوں پہ چلنا بھی اس کے فضل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہمارے شامل حال نہ ہو تو جتنی بھی ہم کوشش کر لیں کچھ نہیں ہو سکتا۔اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ان افراد میں شامل ہو جو تقویٰ پر چلنے والے ہوں اور ان لوگوں میں شامل ہو جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اس فسق و فجور کی آگ سے ایک جماعت کو بچائے اور مخلص اور متقی گروہ میں شامل کرے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 538۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور یہ متقی گروہ کون سا ہے؟ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : "جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 320 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) بیعت کے موافق کا مطلب یہ ہے کہ بیعت کی جو شرائط ہیں ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے اُس منتقی گروہ میں شامل ہو جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی اس حقیقت کو سمجھنے والا ہو جس کا آپ نے اظہار فرمایا ہے۔اللہ کرے کہ ہم کبھی اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل اور اناؤں کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکامات سے صرف نظر کرنے والے نہ ہوں۔دوسروں کے لئے ایک نمونہ ہوں تا کہ ہماری نسلیں بھی ان راستوں پر چلتے ہوئے ہمارے لئے دعائیں کرنے والی ہوں۔اور جو ہمارے ذریعہ سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کریں وہ بھی اپنے ان محسنوں کے لئے دعا ئیں کرنے والے ہوں جنہوں نے انہیں احمدیت سے متعارف کروایا اور جن کی وجہ سے وہ احمدیت میں شامل ہوئے۔