خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 83
83 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پڑتا ہے ” جیسے عجب “ ( یعنی غرور ہے ) ، اور ریا اور تکبر اور حقد ( یعنی کینہ ہے ) اور حسد ہے غرور اور حرص ہے اور بخل اور غفلت اور ظلم ان سب سے مطلع ہونا۔اور حق النفس میں عملی صراط مستقیم یہ ہے کہ انسان کو ان سب کا پتہ ہو کہ یہ ساری چیزیں برائیاں ہیں اور انسان کو تباہ کرتی ہیں۔ان سب سے مطلع ہونا۔ان کا علم ہونا یہ نفس کے بارے میں علمی صراط مستقیم ہے)۔فرمایا کہ " اور جیسے وہ حقیقت میں اخلاق رذیلہ ہیں ویسا ہی ان کو اخلاق رذیلہ جاننا۔یہ علمی صراط مستقیم ہے“۔( یہ سب باتیں جو ہیں جس طرح یہ برائیاں ہیں گھٹیا چیزیں ہیں کہ ان کو حقیقت میں اس طرح ہی جانا، یہ علی صراط مستقیم ہوگا)۔پھر فرمایا اور یہ تو حید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی عیب نہیں اور اپنی ذات میں قدوس ہے“۔(نفس کا جوان برائیوں کا علم ہے اس کو اس سے پتہ لگے گا )۔پھر فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف اپنے نفس کے حالات کی وجہ سے بھی توجہ پھرے گی اور ان برائیوں کو جاننے کی وجہ سے بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔فرمایا کیونکہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے۔جس میں کوئی عیب نہیں ہے۔انسانوں میں سب برائیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ان سے بچنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہوئے بچنا ہے۔اس سے پھر تو حید کا اظہار پیدا ہوگا۔فرمایا کہ عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے جس میں کوئی عیب نہیں اور اپنی ذات میں قدوس ہے“۔(وہی ایک ذات اللہ تعالیٰ کی ہے جو پاک ہے اور اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔باقی ہر مخلوق میں عیب ہیں اور انسان میں جو یہ عیب گنوائے گئے اس کے علاوہ بھی بہت سارے عیوب ہیں۔انسان ان کی پاکیزگی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے۔پھر تو حید کا بیان آگیا )۔فرمایا کہ " اور حق النفس میں عملی صراط مستقیم یہ ہے جو نفس سے ان اخلاق رذیلہ کا قلع قمع کرنا اور صفت سختی عن رذائل اور محتی بالفصائل سے متصف ہونا۔( انسان کا جو نفس ہے اس کی عملی صراط مستقیم یہ ہے کہ یہ جو سارے گھٹیا اور ذلیل قسم کے اخلاق بتائے گئے ہیں ان کو ختم کرنا۔یہ عملی صورت ہوگی۔ان کے لئے عملی قدم انسان اٹھائے گا اور صفت تختی عن رذائل اور تحتی بالفضائل ، یعنی جو اپنی گھٹیا اور ذلیل حرکتیں ہیں ان سے اپنے آپ کو خالی کرنا اور جو نیکیاں ہیں ان کو اپنے اندر لاگو کرنا۔اس زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا جو اللہ تعالیٰ نے فضائل بتائے ہیں۔جو نیکیاں بتائی ہیں ان سے اپنے آپ کو سجانا ، ان سے متصف ہونا۔اپنے نفس کے لئے یہ چیز ہے۔یہ عملی صراط مستقیم ہے اور فرمایا کہ یہ عملی صراط مستقیم ہے۔یہ توحید حالی ہے ( یہ جونفس کے لئے عملی صراط مستقیم جونفس کے لئے ہے اس سے انسان کا حال ظاہر ہو جاتا ہے اور پھر یہ اللہ تعالیٰ کی توحید حالی کا اظہار کر رہی ہوتی ہے )۔” کیونکہ موحد کی اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ تا اپنے دل کو غیر اللہ کے دخل سے خالی کرے اور تا اس کو فنافی تقدس اللہ کا درجہ حاصل ہو۔( اور جو بھی اللہ تعالیٰ کے غیر ہیں، دوسری دنیاوی چیزیں ہیں ان سے اپنے دل کو خالی کرنا اور اس کو فنافی تقدس کا درجہ دینا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور تقدس کے مقام کا جو درجہ ہے وہ حاصل کرنا )۔اور اس میں اور حق العباد میں جو عملی صراط مستقیم ہے ایک باریک فرق ہے