خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 82
82 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہر انسان جو دنیا میں آیا وہ فانی ہے اس نے اس دنیا سے جانا ہے۔بعض لوگ بعض لوگوں کو اتنا اٹھا لیتے ہیں کہ اس کی وفات کے بعد پھر ان کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آرہا ہوتا۔بعض لوگ خدا تعالیٰ کے در کو بھی اس غم میں چھوڑ دیتے ہیں۔اولاد ہے یا بعض اور دوسرے پیارے ہیں۔تو فرمایا کہ معرفت حقہ مخلوق کی نسبت یہی ہے جو اُن کا وجود بیچ اور ناچیز ہے اور سب فانی ہے۔لیکن یہاں یہ بھی واضح ہو جائے کہ بندہ خدا نہیں بن سکتا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ہر ایک چیز بیچ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو ہر ایک کے حفظ مراتب رکھے ہیں ان کا خیال بہر حال رکھنا ہے۔سارے بنی نوع انسان ہیں لیکن یہ کہنا کہ سب برابر ہیں اور افسر اور ماتحت کا فرق ختم ہو جائے ، بڑے یا چھوٹے کا فرق ختم ہو جائے۔یہ نہیں۔یہ تو بہر حال قائم رہنا ہے۔لیکن جہاں تک انسان ہونے کا سوال ہے سب ایک ہیں اور برابر ہیں )۔پھر فرمایا یہ توحید علمی ہے۔( بندوں کے حقوق جب اس طرح ادا ہور ہے ہوں گے تو یہ بھی علمی توحید ہے )۔کیونکہ اس سے عظمت ایک ذات کی نکلتی ہے“۔(حقوق بندوں کے ادا ہور ہے ہیں۔ان کی طرف توجہ ہے لیکن اب تو حید کی طرف توجہ پھیر دی کہ جب تم یہ کرو گے تو اس سے بھی تو حید بھر کر سامنے آرہی ہے کیونکہ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے ہر چیز فانی ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی حیثیت سے سب برابر ہیں۔پھر یہ توجہ دلائی ہے کہ ایک خدا ہے جس کی تمام مخلوق ہے اور پھر اس سے تو حید کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔فرمایا ” کیونکہ اس سے عظمت ایک ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں اور اپنی ذات میں کامل ہے“۔(اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا پتہ لگتا ہے کہ یہی ایک ذات ہے جو اپنی ذات میں کامل ہے)۔پھر فرمایا اور عملی صراط مستقیم یہ ہے (کہ) حقیقی نیکی بجالانا یعنی وہ امر جو حقیقت میں اُن کے حق میں اصلح اور راست ہے بجالانا یہ توحید عملی ہے۔(عملی صراط مستقیم کیا ہوگی؟ یہ کہ ایسی نیکی بجالانا کہ عمل حقیقت میں اس کے حق میں اصلح اور راست ہو یعنی جو کام صحیح اور درست ہے اس کو کرنا۔ہر ایسا کام جس میں کسی قسم کی غلطی کا یا نا جائز ہونے کا شائبہ بھی ہو اس کو ادانہ کرنا ، یہ صراط مستقیم ہے اور یہ توحید عملی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بندے کے بھروسے کا اس بات پر عملی اظہار ہے کہ میں نے کوئی نا جائز ، غلط کام نہیں کرنا اور جب اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہوگا تو کوئی غلط کام نہیں ہوسکتا اور یہ پھر اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر توجہ پھیرتا ہے )۔” کیونکہ موحد کی اس میں یہ غرض ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق سراسر خدا کے اخلاق میں فانی ہوں اور حق النفس میں علمی صراط مستقیم یہ ہے۔کیونکہ یہ جو ایک خدا کی عبادت کرنے والا ہے۔اس کی ہمیشہ یہی کوشش ہوگی کہ اس کے اخلاق وہی ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جو اللہ تعالیٰ بندوں سے ایکسپیکٹ (Expect) کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی اپنی صفات ہیں۔فرمایا که حق النفس میں علمی صراط مستقیم یہ ہے کہ جو جو نفس میں آفات پیدا ہوتے ہیں ( یعنی نفس کے حق میں علم صراط مستقیم کیا ہے؟ یہ کہ نفس میں جو ایسی آفتیں نازل ہوتی ہیں ہمشکلوں میں پڑتا ہے یا غلط قسم کے کاموں میں