خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 81

81 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پنے آپ کو پاک کرنا بھی اس میں ہے )۔اب اس جگہ یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ صراط مستقیم جو حق اور حکمت پر مبنی ہے تین قسم پر ہے“۔( پھر حقیقی نیکی صراط مستقیم ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالص تعلق صراط مستقیم ہے۔نفس کو پاک کرنا ، تزکیہ نفس کرنا صراط مستقیم ہے۔تو فرمایا کہ یہ چیزیں تین قسم پر مبنی ہیں ، ان کا انحصار تین چیزوں پر ہے )۔علمی اور عملی اور حالی اور پھر یہ تینوں تین قسم پر ہیں۔یہ گو بڑا مشکل حوالہ ہے، پہلے میرا خیال تھا کہ نہ پیش کروں لیکن کیونکہ بہت سارے ایک تو حوالے پڑھتے نہیں۔دوسرے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں بہت سے احمدی ہیں جن کو یہ ان کی زبان میں میسر نہیں ہے اور مضمون بڑا ضروری تھا۔اس لئے میں نے کہا کہ بیان کر دوں۔فرمایا کہ اس کی پھر آگے تین قسمیں ہیں۔یعنی علمی ، اور عملی اور حالی چیزوں کی پھر آگے تین قسمیں ہیں۔علمی میں حق اللہ اور حق العباد اور حق النفس کا شناخت کرنا ہے۔(ان کی پہچان اور عملی میں ان حقوق کو بجالانا“۔(علمی چیز کیا ہے؟ یہ جو تین حق ہیں اللہ کا حق ، بندوں کا حق اور اپنے نفس کا حق ، اس کی پہچان یہ علمی چیز ہے۔اور عملی صورت یہ ہے کہ ان حقوق پر عمل کرنا ، ان کو بجالانا۔ان کو ادا کرنا )۔فرمایا کہ مثلاًا حق علمی یہ ہے کہ اس کو ایک سمجھنا۔( اللہ تعالیٰ کا جو علمی حق ہے وہ یہ ہے کہ اس کو ایک سمجھا جائے)۔اور اس کو مبدء تمام فیوض کا اور جامع تمام خوبیوں کا یعنی تمام فیض اسی سے پھوٹتے ہیں۔وہی پیدا کرتا ہے اور تمام خوبیاں اسی کے اندر موجود ہیں ) ” مرجع اور مآب ہر ایک چیز کا اسی کی طرف ہر چیز نے واپس لوٹنا ہے )۔اور منزہ ہر ایک عیب اور نقصان سے جاننا اور جامع تمام صفات کاملہ ہونا ( جتنی بھی صفات ہیں، تمام صفات کامل کا مظہر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ایک مومن کو یہ اس پہ یقین ہونا چاہئے اور قابل عبودیت ہونا اسی میں محصور رکھنا ( یعنی حقیقی بندگی جو ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تک ہی ہے۔اگر آدمی نے کسی کی بندگی اختیار کرنی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کی بندگی اختیار کی جاسکتی ہے)۔فرمایا کہ یہ تو حق اللہ میں علمی صراط مستقیم ہے اور عملی صراط مستقیم یہ ہے جو اس کی طاعت اخلاص سے بجالا نا“۔(اللہ تعالیٰ کے معاملے میں عملی صراط مستقیم کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی خالص طاعت کرنا، حکموں پر چلنا ” اور طاعت میں اس کا کوئی شریک نہ کرنا اور اپنی بہبودی کے لئے اس سے دعا مانگنا۔( جب بھی ضرورت ہو اسی کے آگے جھکنا۔اسی سے دعا مانگنا اور اس پر نظر رکھنا اور اسی کی محبت میں کھوئے جانا۔یہ عملی صراط مستقیم ہے کیونکہ یہی حق ہے۔پھر فرمایا اور حق العباد میں علمی صراط مستقیم یہ جو ان کو اپنا بنی نوع خیال کرنا ( کہ جو بندوں کے حقوق ہیں ان میں عملی صراط مستقیم کیا ہے؟ ان کو بنی نوع خیال کرنا کہ یہ بھی ہماری طرح کے انسان ہیں اور اس سے بڑھ کر نہیں۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔غریب ہیں ، امیر ہیں ، سب برابر ہیں اور اللہ کے بندے ہیں۔ان میں کوئی زیادہ بڑی خوبیاں نہیں ہیں )۔اور ان کو بندگان خدا سمجھنا اور بالکل پیچ اور نا چیز خیال کرنا۔( جہاں تک مخلوق کا سوال ہے وہ اللہ کے بندے ہیں اور کوئی طاقت ان میں نہیں )۔کیونکہ معرفت حقہ مخلوق کی نسبت یہی ہے جوان کا وجود پیچ اور نا چیز ہے اور سب فانی ہیں“۔