خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 80

80 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم نیکیاں ہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان کو بجالا ولیکن یہ افراط میں شامل ہو جائے گا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر کمزوری دکھاتے ہو تو وہ بھی غلط ہے۔اگر ضرورت سے زیادہ موقع محل کے حساب سے غلط کام کرتے ہو۔زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہو تو وہ بھی غلط ہے)۔فرماتے ہیں کہ ہر جگہ رحم کرنا افراط ہے۔کیونکہ محل کے ساتھ بے محل کا پیوند کر دینا اصل پر زیادتی ہے“۔( اب ہر جگہ رحم کرنا یہ بھی غلط ہے۔ایک عادی چور ہے، ایک عادی مجرم ہے اس کو بخش دینا، ہر دفعہ بخش دینا تا کہ وہ جرم کرتا چلا جائے یہ بھی بے محل ہے اور یہ افراط ہے )۔فرماتے ہیں اور یہی افراط ہے اور کسی جگہ بھی رحم نہ کرنا یہ تفریط ہے۔( اور پھر اتنے ظالم ہو جانا کہ اگر کہیں معاف کرنے سے درگزر کرنے سے عفو کرنے سے اصلاح ہوتی ہو تو وہاں بھی نہ بخشا اور ضرور سزا دینا اور سزا کے لئے سفارش کرنا۔یہ بھی غلط ہے )۔کیونکہ اس میں محل بھی فوت کر دیا۔یہاں بھی اس مناسبت سے سزا دینے کا یا نہ دینے کا جو اصل موقع ہے وہ ختم ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں کہ وضع شے کا اپنے محل پر کرنا یہ توسط اور اعتدال ہے کہ جو صراط مستقیم سے موسوم ہے“۔( ہر کام کا اپنے موقع اور محل کے حساب سے کرنا یہی اعتدال ہے۔یہی میانہ روی ہے اور یہی اختیار کرنی چاہئے اور یہی چیز ہے جس کا نام صراط مستقیم ہے )۔جس کی تحصیل کے لئے کوشش کرنا ہر ایک مسلمان پر فرض کیا گیا ہے اور اس کی دعا ہر نماز میں بھی مقرر ہوئی ہے۔جو صراط مستقیم کو مانگتا ہے کیونکہ یہ امر اس کو تو حید پر قائم کرنے والا ہے۔( کیونکہ یہی چیزیں ہیں جو افراط اور تفریط سے بچاتی ہیں۔زیادتی اور کمی سے بچاتی ہیں۔ایک میانہ روی اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ایک درمیانی راستے پر چلاتی ہیں۔یہ چیزیں پھر تو حید کی طرف لے جاتی ہیں )۔” کیونکہ صراط مستقیم پر ہونا خدا کی صفت ہے“۔( اللہ تعالیٰ جو ہے وہ ہمیشہ سیدھے راستے پر ملتا ہے۔اس لئے اگر یہ چیزیں ہوں گی تو انسان تو حید کی طرف چلے گا )۔علاوہ اس کے صراط مستقیم کی حقیقت حق اور حکمت ہے۔پس اگر وہ حق اور حکمت خدا کے بندوں کے ساتھ بجا لایا جائے تو اس کا نام نیکی ہے“۔( فرمایا کہ اس کے علاوہ صراط مستقیم جو ہے وہ حق سچائی اور حکمت ہے۔موقع محل کے لحاظ سے عمل کرنا ہے۔اگر یہ حق اور حکمت جو ہے خدا کے بندوں کے ساتھ بجالائی جائے تو اسی کو نیکی کہتے ہیں۔اور اگر خدا کے ساتھ بجالایا جائے تو اس کا نام اخلاص اور احسان ہے۔( اب یہاں احسان سے کوئی غلط نہ سمجھ لے۔یہاں احسان کے معنی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری ہیں۔اگر صراط مستقیم کا یہ حق استعمال ہورہا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص ہے اور اس کی کامل فرمانبرداری ہے۔اگر بندوں کے ساتھ کر رہے ہیں تو یہ کامل نیکی ہے )۔فرمایا کہ اور اگر اپنے نفس کے ساتھ ہو تو اس کا نام تزکیہ نفس ہے۔( اگر صراط مستقیم پر چلانا اپنے نفس کے لئے ہے تو تیسری حالت اپنے آپ کے لئے اپنے نفس کو پاک کرنا ہے)۔فرمایا کہ ”اور صراط مستقیم ایسا لفظ ہے کہ جس میں حقیقی نیکی اور اخلاص باللہ اور تزکیہ نفس متینوں شامل ہیں“۔( حقیقی نیکی بھی اس میں ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خالص تعلق بھی اس میں ہے اور