خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 69
69 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس یہ ہے اسلام کا اور آنحضرت ﷺ کا سب دینوں اور نبیوں سے افضل ہونا کہ اب قیامت تک آنحضرت ملے کا ہی شرعی اور روحانی فیض جاری رہنا ہے اور مسیح موعود بھی آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ہی آنا ہے اور آیا ہے اور مہدی بھی اسی اُمت میں سے ہے۔یہ کوئی الگ الگ دو شخصیتیں نہیں ہیں۔ایک حدیث کی رو سے یہ دونوں ایک ہی دوخت ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔پس آپ کو نبی مانے اور قبول کئے بغیر اب کوئی چارا نہیں ہے۔اس طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ تم آنے والے امام کو مان لو۔گویا اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔چنانچہ آپ ضرورۃ الامام میں فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں۔یہی تاکید روحانی تمدن کے لئے بھی ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ کہ جس طرح ایک دنیا وی نظام ایک لیڈر کو چاہتا ہے، ایک بادشاہ کو چاہتا ہے ، حکومت کو چاہتا ہے، اسی طرح ایک روحانی نظام ہے۔اس کا بھی ایک طریقہ کار ہے۔اس روحانی نظام کو چلانے کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - - فرمایا کہ " پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مومن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خدا تعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔لہذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتم طور پر نعمت روحانی کی بارش ہوئی ہے، ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تاہم ان کی پیروی کریں۔ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 494) یہ جانوروں کے لئے تو نہیں ، نہ کسی اور مخلوق کے لئے یہ دعا ہے۔فرماتے ہیں کہ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اس نعمت کی بارش ہوئی جو اپنے کمال کو پہنچی ، جو اپنی انتہا کو پہنچی ، ان کی راہوں پر چلنے کی ہمیں توفیق بخش۔یہ دعا ہمیں یہ سکھاتی ہے تا کہ ہم اس کی پیروی کریں)۔سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ تم امام الزمان کے ساتھ ہو جاؤ۔یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی ، رسول، محدث، مجد دسب داخل ہیں مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوئے ( یعنی جن کو اللہ تعالیٰ صحیح راستے پر چلانے کے لئے مخلوق کی ہدایت کے لئے خود مامور نہیں کرتا )۔اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے۔وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں ( ولی اللہ ہوں یا بہت نیک ہوں ، تب بھی وہ امام الزمان نہیں کہلا سکتے“۔ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 494-495) امام الزمان وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امام الزمان کا خطاب دیا ہے۔