خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 60
60 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہیں اور بے شک پہلے خدائی کا دعوی نہیں بتاتے لیکن پھر آہستہ آہستہ جب پکے ہو جاتے ہیں اور شامل ہو جاتے ہیں تو پھر ان کے اوپر وہی شریعت لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بہاء اللہ نے اپنے خدا ہونے کے لحاظ سے اپنے اوپر اتاری یعنی انسان بھی ہے اور خدا بھی ہے۔شریعت اتارنے والا بھی وہی ہے اور شریعت وصول کرنے والا بھی خود ہی ہے۔کیونکہ ان کے بعض لوگ ایسے ہیں بلکہ ان کے بیٹے کا بھی حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے جو فلسطین میں رہے اس کا ذکر کیا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ ان کا ایک بیٹا وہاں پانچ نمازیں پڑھنے مسجد میں آجایا کرتا تھا جبکہ ان کے نزدیک با جماعت نماز پڑھنا فرض نہیں ہے۔بلکہ پانچ نمازوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔دو یا تین نمازیں ہیں۔پھر عیسائیوں کی ہمدردی کے لئے جس طرح عیسائی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسی" خدا کا ظہور تھے اور اس لحاظ سے خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے اسی طرح انہوں نے کہا کہ بہاء اللہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور خود مجسم شکل میں اللہ تعالیٰ آ گیا ہے۔پھر ان کی ایک تعلیم یہ بھی ہے۔ان کے اپنے الفاظ میں، ان کی حالت خدا ہونے کی حالت دیکھ لیں ، ساتھ خدا ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔بہاء اللہ کیا لکھتے ہیں، کیا کہتے ہیں کہ میں قید خانے میں ہوں، بڑا لمبا عرصہ جیل میں رہے ہیں ، میں ما لک الاسماء ہوں ، میرے بغیر کوئی خدا نہیں۔یہ قید خانے میں بیٹھا خدا اور جو مالک الاسماء بھی ہے۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ سوائے میرے جو تنہا قیدی ہوں کوئی خدا نہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی میں مدد کرتار ہوں گا۔وہ خدا جو قید خانے میں بھی ہے جس میں کوئی طاقت بھی نہیں ہے۔مر بھی جائے گا اور مدد کرتا رہے گا۔ایسا خدا ہے جو اپنے آپ کو بھی قید سے نہیں چھڑا اسکا اور اپنے آپ کو موت سے بچا نہیں سکا اس نے دوسروں کی رہائی کے کیا سامان پیدا کرنے ہیں۔کسی کے لئے کیا کافی ہونا ہے اور کیا مددکرنی ہے؟۔پھر عبدالیہا ء ، جو ان کے خاص جانشین تھے وہ بہائیوں کی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، بڑا گول مول سا جواب ہے۔ہوسکتا ہے کوئی مسیحی بہائی ہو یا یہودی بہائی ہو یا فری میسن بہائی ہو یا مسلمان بہائی ہو۔یعنی ہر مذہب میں جا کے بہائی بنا جا سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں نفوذ اس طرح کرو کہ آہستہ آہستہ پہلے ان کی تعلیم کے مطابق ، ہر مذہب کی اپنی تعلیم کے مطابق ان کو بہاء اللہ کے قریب لانے کے لئے قائل کرو۔جب وہ پکے ہو جائیں تو پھر اس کی الوہیت اور خدا ہونے کا دعویٰ ان تک پہنچاؤ۔پھر یہ بھی دیکھیں۔عجیب خدائی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب انبیاء کو بھیجتا ہے تو یہ فرماتا ہے کہ یہ میرا پیغام ہے دنیا کو پہنچا دو۔جس قوم کے لئے بھیجا گیا ہے اس قوم کو پہنچا دو۔آنحضرت کو بھیجا تو فرمایا کہ تمام دنیا تک یہ پیغام پہنچا دو۔آپ کے نائب ، عاشق صادق، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تو فرمایا کہ تمام دنیا تک میرا پیغام پہنچا دو۔لیکن یہ کہتے ہیں کہ یہ پیغام نہیں پہنچانا چاہئے۔بہائیوں نے خود یہ لکھا ہے کہ بہاء اللہ نے ان ممالک میں تبلیغ کرنا حرام قرار دیا ہے۔کچھ مدت بکلی خاموشی اختیار کریں۔اگر کوئی سوال کرے تو کامل بے خبری کا اظہار کریں۔فلسطین وغیرہ میں یہ لوگ بڑی خاموشی سے کام کرتے ہیں۔پھر ہر مزاج کے آدمی کے لحاظ سے ان کی تبلیغ ہو رہی ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ مسیحی بہائی ہے،