خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد هفتم 56 56 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 لیکھرام کو بھی بلا کر انہوں نے دو مہینے تک رکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تنگ کرنے کا کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے تھے۔حضرت مسیح موعود کو ملنے کے لئے جماعت کے جو احباب آتے تھے ان کو روکنے کے لئے انہوں نے راستہ بند کر دیا۔ایک دیوار وہاں بنا دی جس سے مسجد کا راستہ بھی رک گیا۔آنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی لیکن بہر حال کسی طرح نہ مانتے تھے تو یہ ایک واحد مقدمہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کسی مخالف پر کیا۔وہ بھی اس لئے کہ جماعت کے افراد کو تکلیف نہ ہو اور اس کے لئے آپ نے دعا بھی بہت کی تو اللہ تعالیٰ نے عربی میں آپ کو اس کی خبر بھی دی، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ چکی پھرے گی اور قضاء وقد رنازل ہوگی۔یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کو رد کر سکے کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے۔اس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی۔یہ اس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔میرا رب اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔سو تمہیں اس مقدمے میں کھلی کھلی فتح ہو گی۔مگر اس فیصلے میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھی ہے“۔( ترجمه از تذکره صفحه 307) (اربعین نمبر 2 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 384) آخر کا رہا وجود اس کے کہ بظاہر وکلاء بھی شروع میں کیس جیتنے کی امید چھوڑ بیٹھے تھے آخر میں ایک ایسا کاغذ ریکارڈ سے مل گیا جس کے بعد اس مقدمہ کا فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں ہو گیا اور دیوار گرا دی گئی۔بلکہ جج نے اجازت بھی دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اگر چاہیں تو ان پر مقدمہ کریں اور ہر جانے کا دعوی کریں۔کیس کا سارا خرچہ ان سے لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ نہیں کیا لیکن آپ کے وکیل نے وہ مقدمہ کر دیا اور جس دن عدالت کا نوٹس آیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دن قادیان سے باہر تھے۔جب نوٹس پہنچا تو مرزا امام دین تو فوت ہو چکے تھے، مرزا نظام دین کے پاس آیا اور اس وقت ان کی حالت بری ہو چکی تھی بالکل جیسا کہ الہام میں تھا۔ان کا سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔جو نوٹس آیا 143 روپے یا کچھ اس طرح کی رقم تھی وہ ادا کرنے کی ان کی ہمت نہیں تھی۔اس پر انہوں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کی کہ کچھ تو خیال رکھیں۔آخر ہم آپ کے رشتہ دار ہیں۔آپ نے فرمایا میں نے تو مقدمہ نہیں کیا اور وکیل کو بھی کہہ دیا۔کہ کوئی ضرورت نہیں اور لکھ کے دے دیا کہ یہ لوگ گو کہ اپنے زعم میں مجھے بے عزت کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اب جبکہ مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا ہے تو جو مقصد تھا ہمارا وہ ہمیں حاصل ہو گیا ہے۔ہمیں جگہ مل گئی۔اس لئے اب کسی قسم کا کوئی انتقام ان لوگوں سے نہیں لینا۔یہ آپ کا اس کے مقابلہ پر کر دار تھا۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔افسوس کہ میرے مخالفوں کو باوجود اس قدر متواتر نا مرادیوں کے میری نسبت کسی وقت محسوس نہ ہوا کہ اس شخص کے ساتھ درپردہ ایک ہاتھ ہے جو ان کے ہر ایک حملے