خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 599 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 599

599 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 شکلیں ہیں۔قرآن کریم کو بھی خدا تعالیٰ نے ذکر کہا ہے۔جیسا کہ فرمایا انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحج : 10) یعنی ہم نے ہی اس ذکر یعنی قرآن شریف کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کے مطابق اس کی حفاظت فرمائی اور فرمارہا ہے اور یہ آج تک اپنی اصلی حالت میں ہے اور رہے گا۔اس آیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی بعثت کی طرف بھی اشارہ ہے جس کی خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے وضاحت فرمائی ہے۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں کہ ( یہ آیت) صاف بتلا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہو گی کہ اس ذکر کو دنیا سے مٹانا چاہے گی تو اس وقت خدا آسمان سے اپنے کسی فرستادہ کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کرے گا۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 حاشیہ صفحہ 276) اب دنیا جانتی ہے کہ اس زمانہ میں یا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا زمانہ تھا جب عیسائیوں نے دنیا پر ایک یلغار کی ہوئی تھی یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی جیسا کہ میں نے کہا لاکھوں مسلمان عیسائی ہو گئے تھے اسلام کے خلاف ایک ایسی مہم تھی کہ افریقہ وایشیا میں بڑی تیزی سے عیسائیت پھیلانے کی کوشش ہو رہی تھی۔اس وقت اسلام کے دفاع کے لئے قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کے نور سے بھر کر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو کھڑا کیا جنہوں نے اسلام کا دفاع کیا۔اور وہی لوگ جو افریقہ میں بھی اور ایشیا میں بھی عیسائیت کے پھیلنے کے خواب دیکھتے تھے دفاع پر مجبور ہو گئے بلکہ بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔آج بھی دیکھ لیں اسلام کے خلاف مختلف طبقوں سے ابال اٹھتا رہتا ہے۔کبھی آنحضرت ﷺ کے متعلق بیہودہ گوئی کی جاتی ہے۔کبھی اسلام کے بارہ میں کچھ کہا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ایک سیاسی پارٹی نے مسجد کے میناروں کے بارہ میں سوئٹزر لینڈ میں شور اٹھایا تھا۔تو گو کہ رپورٹس یہی ہیں کہ جو ریفرنڈم میں حصہ لینے والے تھے ان کی اکثریت نے میناروں کے خلاف ووٹ ڈالا لیکن جو ملکی آبادی کی اکثریت تھی وہ اس کے خلاف تھی۔انہوں نے حصہ نہیں لیا۔بہر حال ریفرنڈم ہوا اور میناروں کے خلاف ایک قانون پاس ہو گیا۔اور حکومت بھی اور بہت سارے دوسرے سیاسی لیڈر بھی اس بات پر شرمندہ ہیں بلکہ اس پر دوبارہ بحثیں چل پڑی ہیں کہ یہ ریفرنڈم کروانا ہی نہیں چاہئے تھا۔کیوں ہوا؟ اب کیا کرنا چاہئے۔بہر حال اس قسم کے جو لوگ ہیں ، جو اسلام مخالف ہیں ان کی طرف سے کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔اب بھی جماعت کے مخالفین ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے مخالفین ، چاہے جتنا بھی یہ دعوی کریں کہ احمدیت کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے وہ یہ بات تسلیم کئے بغیر نہیں رہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی ذات ہی تھی جس نے اس زمانہ میں اسلام کا دفاع کیا اور مسلمانوں کو عیسائیت کی گود میں گرنے سے بچایا۔اس زمانہ کے بعض علماء نے تو یہ اعلان بڑا کھل کر کیا تھا۔بے شک بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی مخالفت کی وجہ سے، اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے، یہ مخالف