خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 598
598 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم صالحہ بجالاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کامل اطاعت کرتے ہیں اور پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کے فضل سے روحانی ترقیات کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں۔اور جو ایمان نہیں لاتے وہ گناہوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پس یہ مسلمانوں کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے اور احمدیوں کے لئے بھی فکر کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے تو یا درکھیں کہ اسلام کامل فرما نبرداری کا نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اکثر انسانوں کے اندر سے قوت روحانیت اور خدا ترسی کم ہوگئی ہے اور وہ آسمانی نور جس کے ذریعہ سے انسان حق اور باطل میں فرق کر سکتا ہے وہ قریباً بہت سے دلوں میں سے جاتا رہا ہے اور دنیا ایک دہریت کا رنگ پکڑتی جاتی ہے۔فرمایا ” اس بات پر یہ امر گواہ ہے کہ عملی حالتیں جیسا کہ چاہئے کہ درست نہیں ہیں۔سب کچھ زبان سے کہا جاتا ہے مگر عمل کے رنگ میں دکھلایا نہیں جاتا۔فرمایا 'دل کی حقیقی پاکیزگی اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور اس کی مخلوق کی سچی ہمدردی اور حلم اور رحم اور انصاف اور فروتنی اور دوسرے تمام پاک اخلاق اور تقویٰ اور طہارت اور راستی جو ایک مذہب کی روح ہے اس کی طرف اکثر انسانوں کو توجہ نہیں“۔فرماتے ہیں کہ مذہب کی اصلی غرض اُس بچے خدا کو پہچاننا ہے جس نے اس تمام عالم کو پیدا کیا ہے اور اس کی محبت میں اس مقام تک پہنچنا ہے جو غیر کی محبت کو جلا دیتا ہے اور اُس کی مخلوق سے ہمدردی کرنا ہے۔اور حقیقی پاکیزگی کا جامہ پہنا ہے“۔لیکچر لاہور روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 148-147) پس یہ اعلیٰ اخلاق، یہ تقویٰ، یہ دل کی پاکیزگی، یہ خدا تعالیٰ کی محبت اور مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کس طرح ہو؟ یہ میں نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانے سے ہے۔اس نور سے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اس کو حاصل کرنے سے ہے اور یہ تو آنحضرت ﷺ کا اسوہ اور قرآن کریم ہے۔اصل میں تو قرآن کریم کی تعلیم کی جو عملی شکل ہے یہی آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے۔یہی جواب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک صحابی کے سوال کرنے پر انہیں دیا تھا۔اخلاق کے بارہ میں پوچھتے ہو۔تم نے قرآن کریم کھول کر نہیں پڑھا؟ ( مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 145-144 مسند عائشہ حدیث نمبر 25108 عالم الكتب بیروت لبنان 1998ء) اب اس کی طرف واپس لوقا ہوں پہلی آیت جو میں نے تلاوت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ جن کا سینہ اسلام کے لئے کھولتا ہے اور پھر وہ ٹور پر قائم ہوتے ہیں۔وہ لوگ ان کی طرح نہیں ہو سکتے جن کے دل سخت ہو گئے ہوں۔اور دل کیوں سخت ہو گئے ؟ اس کی وضاحت ہوگئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے۔اس کی عبادت کی طرف توجہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے ذکر سے محروم ہیں۔گویا الہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اگر دلوں کی سختی کو دور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے تو ذکر اس کی ایک اہم شرط ہے اور بہت بڑی شرط ہے۔ذکر کیا ہے؟ اس کی مختلف