خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 597
597 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اور سراج منیر ہیں جن سے کامل عشق کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگ بھیجتا رہے گا جو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتے رہیں گیا ور آخرین میں وہ خاتم الخلفاء مبعوث ہو گا جو نبوت کا درجہ بھی پائے گا تا کہ اس نور کو چار سو پھیلا تا چلا جائے۔اُس کام کو مکمل کرے جس کو کرنے کے لئے آنحضرت ملالہ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تھا۔اور یہ ہے خدا تعالیٰ کا ہر طرف ٹور پھیلانا جو آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی صورت میں خدا تعالیٰ نے دنیا میں ظاہر فرمایا۔پس یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے فرما دی اور اس کی وضاحت آنحضرت ﷺ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصلاح کا یہ سلسلہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی بعثت کی وجہ ہے۔اور پھر آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام صادق کی اپنے آقا اور مطاع کی پیروی میں یہی تڑپ تھی کہ دنیا سے شرک ختم ہو۔غیر مذاہب کے لوگ بھی اسلام کی تعلیم کی حقیقت کو سمجھیں۔اور مسلمان بھی اپنی حالتوں کو درست کر کے ہدایت کے راستوں پر گامزن ہوں۔یہ مسلمانوں کی بگڑی ہوئی حالت اور ہدایت سے دُوری ہی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی بعثت سے پہلے کئی لاکھ مسلمان ہندوستان میں ہی اسلام چھوڑ کر عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے تھے۔آج بھی ہدایت کا حال دیکھ لیں۔کہتے ہیں کہ ہمیں ہدایت نصیب ہے لیکن مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔کیا یہ اسلام کی تعلیم ہے؟ کیا معصوموں کی جانیں لینا اسلام کی تعلیم ہے؟ کیا بد دیانتی اور رشوت اور لیڈروں کے ذریعہ سے عوام کے حقوق کی تلفی کوئی اسلامی تعلیم ہے؟ یقینا نہیں ہے۔اور اس زمانہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے کسی فرستادہ کی ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق بھیجا اور جیسا کہ میں نے کہا آپ کی بھی تڑپ تھی کہ مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں۔جس تعلیم کو بھول گئے ہیں اسے حاصل کریں۔جونو ر خدا تعالیٰ نے انہیں دیا تھا اس سے اپنے دلوں کو منور کریں۔ہدایت کے راستوں پر گامزن ہوتے ہوئے تمام احکامات کو بجا لانے کی کوشش کریں۔شرک کا خاتمہ ہو۔انسان کو خدا بنانے والوں کی ہدایت کا سامان ہو اور آپ نے اس کے لئے بڑی تڑپ سے جہاں کوشش کی لٹریچر لکھا وہاں دعائیں بھی کیں۔اور اس تڑپ کو دیکھتے ہوئے آپ کو بھی خدا تعالیٰ نے الہا نا فرمایا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِين - کیا تو اس بات پر اپنے تئیں ہلاک کرے گا کہ یہ کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ ( تذکرہ صفحہ 545 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ ہدایت کے لئے سامان مہیا فرماتا ہے۔اپنے نُور سے منور کر کے اپنے خاص بندے ہمیشہ بھیجتا ہے لیکن جو ماننے سے انکاری ہوں، جن کے سینے خود انہوں نے خدا تعالیٰ کے پیغام کو سننے کے لئے تنگ کر لئے ہوں ان پر پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فعل ہے کہ ان کا سینہ پھر مزید گھٹتا چلا جاتا ہے۔وہ نیکیوں سے دُور ہٹ جاتے ہیں اور بُرائیوں کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس اس آیت میں یہ واضح کر دیا کہ اللہ تعالی صرف انہی کی مدد کرتا ہے جو اعمال