خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد ہفتم 596 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 چاہے سینہ تنگ کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو آدم کو زمین پر بھیجا اور بھیج کر پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ تمہیں آزادی ہے۔اگر نیکیوں کی طرف قدم بڑھاؤ گے تو میرے نور سے حصہ پاؤ گے اور اگر شیطان کے قدموں پر چلو گے تو میرے عذاب کے مورد بنو گے۔پس یہ انسان کے بُرے اعمال ہیں جو اس کا سینہ تنگ ہونے کا باعث بنتے ہیں۔جب انسان گناہوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور دین سے اور اللہ کے رسولوں سے استہزاء شروع کر دیتا ہے تو پھر وہ گمراہی کے راستوں کی طرف چلتا ہے اور صراط مستقیم سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بوجھ سمجھنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے پر بند کر رہے ہوتے ہیں۔اور جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بند کرتے ہیں تو ان کے سینے میں اللہ تعالیٰ مزید گھٹاؤ پیدا کر دیتا ہے۔ان کے لئے راستے کی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔وہ ایسے حالات میں ہوتا ہے کہ جیسے کوئی اونچی جگہ چڑھ رہا ہے۔سانس پھول رہا ہے جس کی وجہ سے سینے میں تنگی محسوس ہورہی ہے۔تو یہ عمل خود انسان کے ہیں جو اُسے خدا سے دُور کر کے مشکلات میں مبتلا کرتے ہیں۔ورنہ خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ جب بھی انسان میں ، قوموں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اپنے نبی اور رسول اور خاص بندے بھیجتا ہے کہ دنیا کی راہنمائی کر کے انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کریں اور انبیاء اپنی جان پر ظلم کر کے یہ کام سرانجام دیتے ہیں۔قوم کی دشمنیاں مول لے کر یہ کام انجام دینے کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں۔قوم کے جو سردار ہیں، جن کی اپنے نفس کی خواہشات ہیں، جو صرف اپنی ذاتیات کے دائرے کے اندر ہی رہنا چاہتے ہیں، وہ پھر اللہ تعالیٰ کے ان پاک بندوں کے خلاف ہوتے ہیں۔اپنی دشمنیوں کو ان کے لئے انتہا تک بڑھا دیتے ہیں۔لیکن یہ لوگ ان لوگوں کی دشمنیاں لے کر بھی اصلاح کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں۔راستے کی کسی روک کی پرواہ نہیں کرتے۔جیسا کہ میں نے بتایا محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی اے کے ای در دکود یکھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فر مایا کہ کیا تو ان لوگوں کے لئے اپنی جان کو ہلاک کرے گا کہ یہ اسلام قبول نہیں کرتے۔پس جو خود گناہوں میں گرنا چاہتا ہے جو گمراہی کے راستوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا اسے پھر اللہ تعالیٰ بھلائی کے راستے نہیں دکھاتا۔اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں بیان کرنے کا مقصد صرف یہی نہیں ہے کہ پرانوں کے واقعات بیان کر دیئے یا آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد مسلمانوں میں سے اب کوئی بھٹک نہیں سکتا اور جس کے ساتھ اسلام کا لیبل لگ گیا اس کے لئے روحانی ترقی بھی لازمی ہوگئی۔قرآن کریم میں ایسے بے شمار احکامات ہیں کہ اسلام لانے کے بعد بھی روحانی ترقی کے لئے عبادات، استغفار، اعمال صالحہ بجالانے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکموں کی حقیقی رنگ میں پیروی نہیں کرو گے تو سزا کے مستوجب بن جاؤ گے یا بن سکتے ہو۔پھر یہ بھی واضح کر دیا کہ جس طرح پہلی قوموں میں انحطاط ہوا تم میں بھی ہوگا۔لیکن کیونکہ یہ آخری شریعت ہے اور دین اسلام میں مکمل کر دیا گیا ہے اس لئے یہ وہ نور کا آخری مینار ہے جس سے آئندہ تا قیامت دنیا نے روشنی حاصل کرنی ہے۔اور آنحضرت یہ وہ آخری روشنی