خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 595

595 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم روشنی نہیں دیکھتا تو یہ اس کے اُس عمل کا نتیجہ ہے جو اُس نے اپنے تک سورج کی روشنی پہنچنے کے لئے روکیں کھڑی کر کے کیا ہے۔پس روحانی دنیا میں بھی روشنی انہی تک پہنچتی ہے جو یہ روشنی پہنچنے کے لئے اپنے دل و دماغ کے دروازے اور کھڑکیاں کھول کے رکھتے ہیں۔پس یہاں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يُهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلاِسْلَامِ۔پس جسے اللہ چاہے کہ اسے ہدایت دے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔یہاں پر اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان کا عمل ہے جو نیک اعمال کی صورت میں اور ٹو ر سے حصہ لینے کی تڑپ دل میں رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں پھر وہ ہدایت پاتا ہے۔پس خدا تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کی طرف تو جو ایک قدم بڑھانے والا ہے خدا تعالیٰ اس کی طرف دو قدم بڑھاتا ہے اور اس کی طرف چل کر جانے والے کی طرف خدا تعالیٰ دوڑ کر آتا ہے۔پس یہاں جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اس کا سینہ اسلام کے لئے کھولتا ہے اس کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ یہ علم رکھتا ہے کہ فلاں شخص خوشی اور کوشش سے خدا تعالیٰ کی رضا کی تمنا رکھتے ہوئے اس کے احکامات کو قبول کرنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کامل اطاعت بدل و جان کرنے کے لئے تیار ہے۔اگر انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی اور کامل اطاعت کے لئے ہر وقت تیار ہو تو یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ اُس کے قدم روحانی ترقی کی طرف اٹھ رہے ہیں۔اور جس کے قدم روحانی ترقی کی طرف اٹھ رہے ہوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی ہے جس کا سینہ اللہ تعالیٰ پھر کھولتا چلا جاتا ہے۔اُسے حقیقی اسلام کا فہم و ادراک حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔نام کا مسلمان نہیں ہوتا۔اس کی عبادات، اس کی نمازیں ، اس کے روزے، اس کے حج ، اس کے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتے ہیں۔لیکن بعض ایسے بدقسمت بھی ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے احکامات کو بوجھ سمجھتے ہیں، جو دین کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔یا بعض ایسے ہیں جو اپنے دین کو یا اُن روایات کو جو انہوں نے اپنے آباء واجداد سے، اپنے باپ دادا سے سنیں ، آخری حرف سمجھتے ہیں اور اسلام کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔وہ اپنے خیال میں یا اپنے ماحول میں جتنا بھی خیال کریں یا سمجھے جائیں کہ وہ کسی دین پر قائم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دین پر قائم نہیں اور روحانی لحاظ سے ترقی کی بجائے انحطاط پذیر ہیں، نیچے کی طرف جا رہے ہیں۔جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوگئی اور اس نور پر خدا تعالیٰ کی آخری شریعت قرآن کریم کا نور بھی نازل ہو گیا تو اب اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الإسلام ( آل عمران : 20) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل دین اسلام ہی ہے جو کامل فرمانبرداری سکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کے لئے راہیں متعین کرتا ہے۔اس کے علاوہ اب کوئی دین نہیں جو روحانی ترقیات کی راہیں دکھا سکے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ وَمَنْ يُرِدْ اَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا اور جے چاہے اُسے گمراہ ٹھہرائے۔اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کا