خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 588 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 588

588 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پہلی بات یہ فرمائی۔تو بہ کرنے والے تو بہ کیا چیز ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ برائیوں سے قطع تعلق کرنا۔اس کی وضاحت ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح فرمائی ہے۔فرمایا: انسان کو چاہئے کہ اگر تو بہ کرے تو خالص تو بہ کرے تو بہ اصل میں رجوع کو کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ صرف زبان سے تو بہ تو بہ کرتے پھرو بلکہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، جیسا کہ حق ہے رجوع کرنے کا۔کیونکہ جب متناقض جہات میں سے ایک کو چھوڑ کر انسان دوسری طرف آ جاتا ہے تو پھر پہلی جگہ دور ہوتی جاتی ہے ( جب انسان متناقض جہات ، یعنی الٹی طرف جانا شروع کرتا ہے۔ایک طرف کو چھوڑ کر جب دوسری طرف آتا ہے تو پہلی جگہ سے دوری ہوتی جاتی ہے ) اور جس کی طرف جاتا ہے وہ نزدیک ہوتی جاتی ہیں۔یہی مطلب تو بہ کا ہے کہ جب انسان خدا کی طرف رجوع کر لیتا ہے اور دن بدن اس کی طرف چلتا ہے تو آخر یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان سے دور ہو جاتا ہے اور خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 409 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری خصوصیت ایک مومن کی یہ بتائی کہ عبادت کرنے والے ہیں۔ظاہر ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھ رہے ہوں گے تو خالص ہو کر اس کی عبادت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور یہی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مقصد قرار دیا ہے۔اور ایک مومن جو خدا تعالیٰ پر کامل یقین رکھتا ہے وہ اس بات کی پوری کوشش کرتا ہے کہ عبادت کا حق ادا کرے۔وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ عبادت کے بغیر میری زندگی ادھوری ہے اور عبادت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کا حق ادا کرنا ہوگا۔اور اس کا حق اس کو ادا کرنے سے ہوگا۔فرمایا وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ (البقرة: 44) کہ نماز کو قائم کرو اور نماز کا قائم کرنا یہی ہے کہ مسجد میں جا کر با جماعت نماز ادا کی جائے اور یہی نمازوں کی ادائیگی کا حقیقی حق ہے۔یہاں ضمناً میں یہ بھی بتا دوں کہ مجھے اس مسجد کے بارہ میں پتہ لگا ہے کہ یہاں نمازوں کے وقت پوری طرح پر مسجد میں لوگ نہیں آتے۔مجھے کسی نے لکھا تھا، بلکہ کسی لوکل اخبار نے بھی لکھا کہ ایک وقت میں یہاں پانچوں نمازیں ہوتی تھیں اب یہ مسجد صرف جمعہ کے لئے استعمال ہوتی ہے۔اس علاقہ کے لوگوں کا ، احمدیوں کا فرض بھی ہے کہ یہاں آئیں۔باقاعدہ پانچ وقت یہ مسجد کھولیں اور نماز میں ادا کیا کریں۔صرف عشاء کی نماز ادا کرنا یا مغرب کی نماز ادا کرنا یا چند ایک کا فجر پر آ جانا ہی کافی نہیں ہے۔یہ حق آپ ادا کریں گے تو تبھی آپ حقیقی مومن کہلانے والے ہوں گے۔مسجد کی بنیا د ر کھتے ہوئے غیر بھی اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیوں مسجد بنا رہے ہیں۔پرسوں بھی ایک شہر میں جہاں میں نے مسجد کی بنیاد رکھی ہے، وہاں پریس والے نے یہی سوال کیا کہ آپ مسجد میں کیوں بنا رہے ہیں؟ تو سیدھا سادہ جواب تو اس کا یہی ہے کہ نماز با جماعت کی ادائیگی کے لئے جس کی اسلام میں بہت اہمیت ہے۔نماز کے قیام کا