خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 586

خطبات مسرور جلد ہفتم 586 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 کہا صرف اور صرف جماعت احمدیہ کا مقدر ہے۔ہر احمدی کا کام ہے۔آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی بیعت میں آنے والوں کا کام ہے۔انہیں سے اب منسوب ہو چکا ہے۔آپ لوگوں کو میں جلسہ میں بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں۔پس احمدی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور مساجد اور اس کے میناروں سے اسلام کے نور کو اللہ تعالیٰ کے نور کو یورپ اور مغرب کے ہر ملک اور ہر باشندے تک پہنچائیں اور اس کو پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔اور یہ اس وقت ہو گا جب مسجدوں کے ساتھ جڑ کر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے ،اس سے مدد مانگتے ہوئے ، اس کام کو سرانجام دینے کے لئے کوشش کریں گے۔مسجد کے مقام اوراہمیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں گے۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں بھی اس بارہ میں کچھ راہنمائی ملتی ہے۔ان آیات میں سے پہلی آیت جو تھی سورہ اعراف کی تھی۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تو کہہ دے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے۔نیز یہ کہ تم ہر مسجد میں اپنی تو جہات ( اللہ کی طرف) سیدھی رکھو۔اور دین کو اُس کے لئے خالص کرتے ہوئے اُسی کو پکارا کرو۔جس طرح اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا اسی طرح تم (مرنے کے بعد ) لوٹو گے۔یہ کیا خوبصورت تعلیم ہے۔اعتراض کرتے ہیں کہ مساجد دہشتگردی کا اڈہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلا حکم یہ دیا ہے کہ انصاف پر قائم ہو جاؤ۔پھر مسجد کا حق ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔یا اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے تمہیں اپنے دلوں کو ہر قسم کی نا انصافی سے پاک کرنا ہوگا۔قرآن کریم میں اور کئی مقامات پر بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔مثلاً ایک جگہ فرمایا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بالعدل (النساء آیت : 59) کہ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ کرو۔یہ ہے خوبصورت تعلیم۔یہ نہیں کہا کہ جب مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کرو۔بلکہ محسن انسانیت پر جو تعلیم اتاری گئی تھی وہ بھی گل انسانیت کی بہتری کے لئے ہے۔اور اس کا اظہار ایک اور جگہ اس طرح ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انصاف سے نہ روکے اور جو مسجد فتنہ اور شر کے لئے بنائی گئی تھی اس کے گرانے کا حکم قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دے دیا۔پس مسجد کا تو وہ مقام ہے جہاں تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے اس کے آگے جھکنے کے لئے آیا جاتا ہے۔مسجد کا لفظ مسجد سے نکلا ہے۔جس کا مطلب ہے عاجزی انکساری اور فرمانبرداری کی انتہا۔پس مسجد تو یہ اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے والی جگہ ہے اور اس آیت میں یہی حکم ہے کہ جب نماز کا وقت آئے تو مسجد میں جمع ہو کر، ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو پکارو کہ تو ہی ہے جو ہمیں سیدھے راستے پر چلانے والا ہے۔ہمارے اندر سجدے کی حقیقی روح پیدا کرنے والا ہے۔تو ہی ہے جو ہمیں دین کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق