خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 582

582 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 پچاس سال یا پچھتر سال یا سو سال پورے ہو چکے ہیں۔مساجد کی اہمیت ان کے پچاس سال یا سو سال پورے ہونے سے نہیں ہے۔مساجد کی اہمیت اور ان کی خوبصورتی ان کو آباد کرنے کے لئے آنے والے لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ رکھتے ہیں اور تقویٰ رکھتے ہوئے مساجد میں آکر پانچ وقت ان کی رونق کو دوبالا کرتے ہیں۔مساجد کے مقام اور اس کی اہمیت کے بارے میں ہمیں قرآن اور احادیث سے بڑی راہنمائی ملتی ہے اور ایک احمدی کی یہی شان اور پہچان ہے کہ ہمیشہ مسجد کے اس مقام کو پہچانے جس کی خدا تعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی ہے اور اسی حوالے سے میں چند باتیں آج کروں گا۔لیکن اس سے پہلے کہ مسجد کی اہمیت کے بارے میں کچھ کہوں اس مسجد کے حوالے سے بھی چند باتیں کہوں گا۔یہاں کے رہنے والے تو جانتے ہیں اور اب دنیا کے احمدی بھی جان گئے ہوں گے کہ اس مسجد کا نام مسجد نور ہے۔اتفاق سے گزشتہ دو خطبوں سے میں نور کے حوالے سے اس کے مختلف معانی اور اللہ تعالیٰ کی صفت ہونے کے بارہ میں روشنی ڈال چکا ہوں۔پس یہ مسجد اور ہماری ہر مسجد اس نور کو اپنے دلوں میں قائم کرنے اور اسے دنیا میں پھیلانے کے لئے ہی تعمیر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کا نور ہے۔چاہے جو بھی اس کی پہچان کے لئے اس کا نام رکھ دیا جائے لیکن اس کا مقصد یہی ہے کہ جونو ر خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور قرآن کے ذریعہ سے ہم پر اتارا اور پھر اس کا حقیقی پر تو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بنایا تا کہ یہ نور ہر سو پھیلتا چلا جائے۔تو یہی ہماری مساجد کا مقصد ہے۔لیکن یہ بھی اتفاق ہے بلکہ میں کہوں گا کہ سوئس (Swiss) حکومت کی بدقسمتی ہے کہ اسلام دشمن ایک پارٹی کے کہنے پر ایک ریفرنڈم کی بنیاد پر یا ایک ریفرنڈم کو بنیاد بناتے ہوئے جس میں ایک حساب سے جو حصہ لینے والے تھے ہے ان کی اکثریت نے یہ فیصلہ کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں آئندہ تعمیر ہونے والی مساجد کے مینار نہ تعمیر کئے جائیں۔لیکن یہ بھی رپورٹ ہے کہ اس ریفرنڈم میں جن لوگوں نے حصہ لیا اگر ان کی تعداد کا اندازہ کیا جائے تو 2 3 فیصد لوگوں نے حقیقت میں ”ہاں“ میں ووٹ دیئے ہیں کہ مینارے تعمیر نہ کئے جائیں۔گویا اکثریت یا اس سے لاتعلق رہی ہے یا ان کو تجویز پسند نہیں تھی۔یہ بھی آج آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت کا ہی کام ہے کہ جہاں تمام مسلمان فرقے سوئے ہوئے تھے بلکہ بعض نے توجہ دلانے پر یہاں تک بھی کہا کہ کیا ضرورت ہے میناروں کے ایشو پر شور مچانے کی۔یونہی ہم کیوں ان لوگوں کی مخالفت مول لیں لیکن وہاں صرف جماعت احمدیہ نے پبلک میٹنگ کر کر کے اور سیاستدانوں سے رابطے کر کے بھی اس احمقانہ قانون کے خلاف پہلے بھی آواز اٹھائی اور اب بھی اٹھا رہے ہیں۔بعض سیاسی پارٹیوں نے ہم سے اس بات پر معذرت کی ہے کہ یہ ہمارا افعل نہیں ہے اور ہم اس قسم کی احمقانہ چیزوں کے بڑے سخت مخالف ہیں۔بلکہ سوئٹزر لینڈ میں زیورخ میں جہاں ہماری مسجد ہے وہاں کے علاقہ کے لوگوں نے